Bharat Express DD Free Dish

Amritpal Singh: پنجاب حکومت قومی سلامتی قانون کے تحت امرت پال سنگھ کی نظر بندی میں کرے گی مزید ایک سال کی توسیع

پنجاب حکومت نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کھڈور صاحب کے رکن پارلیمنٹ اور سکھ لیڈر امرت پال سنگھ کی نظر بندی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب حکومت نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کھڈور صاحب کے رکن پارلیمنٹ اور سکھ لیڈر امرت پال سنگھ کی نظر بندی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ایک سینئر سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ امرت پال کی نظر بندی میں اگلے ہفتے توسیع کی جائے گی اور وہ آسام کے ڈبرو گڑھ کی جیل میں بند رہے گا۔

اہلکار نے کہا ’’امرت پال کی نظر بندی میں توسیع کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان بات چیت کے بعد لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سنگھ کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے، جو اپریل 2023 سے آسام کے ڈبرو گڑھ میں جیل میں بند ہے۔‘‘ واضح رہے کہ 32 سالہ امرت پال کو، جو وارث پنجاب دی تنظیم کا سربراہ ہے، 23 اپریل 2023 کو موگا ضلع کے روڈے گاؤں سے پنجاب پولیس کی تلاشی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ قدم پولیس نے تب اٹھایا تھا، جب اس کے حامیوں نے امرت پال کے ایک ساتھی لو پریت طوفان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے 23 فروری کو امرتسر ضلع کے اجنالہ پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا تھا۔

امرت پال کے تمام نو ساتھیوں کو، جو 2023 میں اس کے ساتھ ڈبرو گڑھ جیل میں بند تھے، اجنالہ پولیس اسٹیشن پر حملے کی تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے حال ہی میں واپس پنجاب لایا گیا تھا۔ امرت پال کی حراست میں توسیع کا فیصلہ امرتسر کے ضلع مجسٹریٹ کی سفارش پر ریاست کے محکمہ داخلہ نے کیا تھا۔ ڈی ایم کی سفارش ریاستی پولیس اور انٹیلی جنس ونگ کی رپورٹ پر مبنی ہے۔ اخبار کے مطابق ایک سینئر اہلکار نے کہا ’’امرت پال کچھ اضافی شواہد کی بنا پر ریاست کے لاء اینڈ آرڈر کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ یہ فیصلہ ایڈوائزری بورڈ کی سفارش کے ساتھ محکمہ داخلہ کی طرف سے محتاط غور و خوض کے بعد لیا گیا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read