لکھنؤ: اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر سے شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران 11 فروری کو ریاستی بجٹ پیش کیا جانا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی ایوان میں سیاسی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی، جب سماج وادی پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے گورنر کے خطبے سے قبل ہی نعرے بازی شروع کر دی اور کارروائی میں خلل ڈالا۔ اپوزیشن کے اس رویے پر حکمراں جماعت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس پورے واقعے پر سروجنی نگر سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اپوزیشن کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیانات میں کہا کہ اسمبلی میں گورنر کے خطبے کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کیا گیا احتجاج قابلِ مذمت ہے اور یہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے سراسر منافی ہے۔ ان کے مطابق گورنر کا خطبہ ایک آئینی عمل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کو ایوان اور عوام کے سامنے رکھتی ہے۔
ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ گورنر کے خطبے کو سنے بغیر ہی اس میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف آئینی وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ جمہوریت کی روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے اور احتجاج اپوزیشن کا آئینی حق ہے، مگر اس کا اظہار شور شرابے اور ایوان کی کارروائی روک کر نہیں بلکہ مہذب بحث، ٹھوس دلائل اور حقائق کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغیر سنے کیا گیا احتجاج کسی بھی طرح تعمیری سیاست کی مثال نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا رویہ منفی سوچ اور سیاسی عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق اسمبلی ایک اعلیٰ ترین جمہوری ادارہ ہے، جو عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے، اس لیے اس کی کارروائی میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنا عوام کے اعتماد اور ان کی محنت کی کمائی کی توہین ہے۔
بی جے پی رکنِ اسمبلی نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایک ذمہ دار اور مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن پہلے بات کو سنے، پھر سمجھے اور اس کے بعد آئینی حدود میں رہتے ہوئے حکومت سے سوال کرے اور تنقید کرے۔ ان کے مطابق ہنگامے اور شور کی سیاست سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی، بلکہ مکالمہ، تحمل اور بامقصد بحث ہی جمہوری نظام کی اصل طاقت ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

