نئی دہلی : کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت حملہ کرتے ہوئے طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر طاقت کے زیادہ استعمال پر حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نوجوان اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے خلاف لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور دیگر طاقت کے استعمال کی ذمہ داری آخر کس کی ہے۔قومی دارالحکومت میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پریانکا گاندھی نے کہا کہ جب ہزاروں طلبہ ایک مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں تو ان پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بہار میں مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کے مبینہ استعمال کا بھی حوالہ دیا۔ پریانکا نے سوال کیا کہ کیا وزیر داخلہ ان کارروائیوں کے لیے عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں؟ پریانکا گاندھی واڈرا نے کہا، ’’کیا آپ عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں؟ تو کیا ہم خاموش بیٹھے رہیں؟‘‘ پرینکا گاندھی نے واضح کیا کہ اپوزیشن طلبہ کی آواز کو مبینہ طور پر طاقت کے ذریعے دبائے جانے کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طلبہ کے احتجاج اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کی کارروائی بھی بار بار متاثر ہوئی ہے۔ اپوزیشن حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے، جبکہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ حکومت نے اب اس معاملے پر بحث کی پیشکش کی ہے اور امت شاہ کے جواب دینے کی توقع ہے۔طلبہ کے احتجاج کا معاملہ دہلی، جھارکھنڈ اور بہار میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک سے متعلق مظاہروں کے بعد زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں باقاعدہ بیان دیں اور معذرت کریں۔دوسری جانب این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس سے جھارکھنڈ میں پیر کے روز جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امیدواروں کے خلاف پولیس کے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کے استعمال پر جواب طلب کیا ہے۔ جھارکھنڈ کے طلبہ نے 10 اگست کو رانچی میں ریاستی اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ طلبہ اور ملازمت کے امیدوار اسمبلی کی جانب مارچ کر رہے تھے، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔ بیریکیڈ توڑے جانے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھ دیو بھگت نے اس سے قبل مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ طلبہ پرامن احتجاج کر رہے تھے اور پولیس کارروائی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اس معاملے کے تئیں حساس ہیں اور ریاستی سی آئی ڈی کی جانب سے سابق جے ایس ایس سی چیئرمین کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا۔بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران کئی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ بھگت کے مطابق اب تک تقریباً 20 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی معاملے کی تحقیقات میں شامل ہو گیا ہے۔پریانکا گاندھی کے تازہ بیان کے بعد طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی کا معاملہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی کا مزید اہم موضوع بن گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ برتی گئی مبینہ زیادتی کی جوابدہی طے ہونی چاہیے اور ان کے مطالبات کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


