مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، ’’میں اپنے دل کی چند باتیں شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ وزیراعظم مودی کے 12 سالہ دورِ حکومت میں گزشتہ 9 برسوں سے ان کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ بھارت میں میں نے کئی وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کی سیاسی قیادت کو بھی قریب سے دیکھا ہے، لیکن آج تک مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جس کے پاس وزیراعظم مودی جیسا وسیع علم ہو۔ ترقیاتی امور پر ان کی گہری سمجھ اور بڑے پیمانے پر لیڈرئی فراہم کرنے کی صلاحیت واقعی منفرد ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ چاہے قدرتی گیس کا معاملہ ہو، قدرتی کھیتی، زراعت یا کھادوں کے استعمال کا موضوع، وزیراعظم جس شعبے پر توجہ دیتے ہیں، اس کے بارے میں ان کا علم اور تحقیق غیر معمولی ہوتی ہے۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری بیان
مرکزی وزیر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں شروع کی گئی کئی اہم اسکیموں کی بنیاد وزیراعظم مودی نے گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر پہلے ہی رکھ دی تھی۔ صفائی مہم اور شہری ترقی سے متعلق متعدد اقدامات گجرات میں محدود پیمانے پر نافذ کیے جا چکے تھے۔ ان کے مطابق اگرچہ زمین جیسے معاملات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، لیکن وزیراعظم کا ماننا تھا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں مل کر ایسی پالیسیاں بنا سکتی ہیں جو ملک کو ’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب تیزی سے لے جائیں۔
ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ وزیراعظم مودی پہلے ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے اعلیٰ سطح پر خود ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا۔ ہر ماہ ہونے والی جائزہ میٹنگز میں وہ مختلف وزارتوں کے سیکریٹریوں کے ساتھ بیٹھ کر منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ اگر کسی شعبے میں مہارت کی کمی محسوس ہو تو وہ صنعت کے ماہرین سے تعاون لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں نمایاں کارکردگی
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت صرف سرکاری اجلاسوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے لیے صنعت سے وابستہ ماہرین کے ساتھ وسیع مشاورت کی گئی۔ قدرتی گیس، ایل پی جی صارفین کو پائپڈ گیس نیٹ ورک سے جوڑنے اور تلاش و پیداوار کی پالیسی میں اصلاحات جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کان کنی کے شعبے، بشمول کوئلہ، معدنیات اور پیٹرولیم سے متعلق قوانین اور پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ حکومت نے اس سمت میں نئے قوانین اور پالیسی تبدیلیاں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً 35 لاکھ مربع کلومیٹر سیڈیمینٹری بیسن علاقے میں سے لگ بھگ 10 لاکھ مربع کلومیٹر ایسا علاقہ تھا جہاں تیل و گیس کی تلاش یا کنویں کھودنے کی اجازت نہیں تھی۔ حکومت نے اس معاملے پر صنعت کے نمائندوں سے مشاورت کی اور وزیراعظم مودی نے ذاتی طور پر اس عمل کی قیادت کی۔ ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق وزارتِ دفاع، بحریہ، کوسٹ گارڈ اور ڈی آر ڈی او کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی اعتراضات سامنے آئے تھے، جنہیں بات چیت اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


