صدر دروپدی مرمو نے جمعہ کو راشٹرپتی بھون کے ثقافتی مرکز میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں ٹرافیوں کی نقاب کشائی کی اور ڈیورنڈ کپ مقابلہ 2025 کو جھنڈی دکھائی۔ صدر دروپدی مرمو نے کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظم و ضبط، عزم اور ٹیم اسپرٹ کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ایونٹ 15 جولائی سے 23 اگست تک پانچ ریاستوں میں منعقد ہوگا۔
انھوں نے لوگوں، خطوں اور ممالک کو جوڑنے کے لیے کھیلوں کی انوکھی طاقت کو اجاگر کیا اور اسے ہندوستان میں قومی یکجہتی کا ایک طاقتور ذریعہ قرار دیا۔ صدر مرمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ڈیورنڈ کپ جیسے پروگرام نہ صرف کھیلوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ فٹ بال کے کھلاڑیوں کی اگلی نسل کو تیار کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں، جس سے انھیں آگے بڑھنے کا پلیٹ فارم ملتا ہے۔‘‘
فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک جذبہ ہے: صدر مرمو
صدر مرمو نے کہا کہ ’’فٹ بال کروڑوں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک کھیل نہیں ہے، بلکہ ایک جذبہ ہے۔ فٹ بال کا کھیل حکمت عملی، صبر اور ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرنے کی علامت ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ڈیورنڈ کپ کا 2025 ایڈیشن، ایشیا کا سب سے قدیم فٹ بال ٹورنامنٹ، 15 جولائی سے 23 اگست تک پانچ ریاستوں-مغربی بنگال، آسام، منی پور، میگھالیہ اور جھارکھنڈ کے چھ مقامات پر کھیلا جائے گا۔
آسام میں کوکراجھار مسلسل تیسرے سال ڈیورنڈ کپ کی میزبانی کرے گا جب کہ جھارکھنڈ کا جمشید پور اور میگھالیہ کا شیلانگ گزشتہ سال میزبان کے طور پر شامل ہوا تھا۔ سو سال پرانے اس ٹورنامنٹ نے 2019 میں اپنا ہوم گراؤنڈ نئی دہلی سے کولکاتہ منتقل کیا اور لگاتار چھٹے ایڈیشن میں برقرار رکھا ہے۔
یہ ٹورنامنٹ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں ہندوستان کے بہترین فٹ بال کلبوں کے خلاف سروس ٹیموں کا مقابلہ ہوتا ہے اور پچھلے چند ایڈیشنوں میں پڑوسی ممالک کی سروس ٹیموں کے ساتھ غیر ملکی شرکت بھی دیکھی گئی ہے۔ نارتھ ایسٹ یونائیٹڈ ایف سی دفاعی چیمپئن کے طور پر ٹورنامنٹ میں داخل ہوئی، جس نے گزشتہ سال موہن بگان سپر جائنٹس کو شکست دے کر اپنا پہلا ٹائٹل جیتا تھا۔ شرکت کرنے والی ٹیموں اور گروپس کی مکمل فہرست کا اعلان اس ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


