منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ
منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے کہا کہ ریاست میں ایک بار پھر مقبول حکومت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ این بیرین سنگھ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست میں صدر راج نافذ ہے۔ سابق بی جے پی حکومت کو ہٹا کر اس لیے صدر راج نافذ کیا گیا تھا کیونکہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا نظام بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں درہم برہم ہو چکا تھا، تشدد اپنے عروج پر تھا۔ حالانکہ صدر راج نافذ ہونے کے بعد بھی وہاں نسلی خوں ریزی مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں پھر سے بی جے پی کا وہاں مقبول حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ، اپوزیشن کو حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
امید ہے ریاست میں جلد ہی ایک نئی حکومت بنے گی
بہرحال، آج بی جے پی کے ریاستی دفتر میں ایک تقریب کے دوران سابق وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے کہا کہ انہیں امید ہے ریاست میں جلد ہی ایک نئی حکومت بنے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جلد از جلد حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایک قومی پارٹی ہیں، زمینی حالات دیکھنے کے بعد مجھے مکمل یقین ہے کہ حکومت جلد بنے گی۔ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں بھی ایک مقبول حکومت چاہتی ہیں۔ ہم ایک مقبول حکومت کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مرکزی حکومت اور متعلقہ افسران سے بات چیت جاری
این بیرین سنگھ کا کہنا ہے کہ ہم (بی جے پی) نے کسی پر تنقید نہیں کی ہے۔ ہم صرف موجودہ بحران پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت اور متعلقہ افسران سے بات چیت جاری ہے، تاکہ ریاست میں موجود مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اراکین اسمبلی کی باقاعدہ میٹنگیں کر رہے ہیں، تاکہ حکومت کی بحالی کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔ تمام لوگ امن کی بحالی چاہتے ہیں، امن بہت ضروری ہے۔ گزشتہ 8-7 ماہ میں دونوں برادریوں (کوکی اور میتئی) کے درمیان کوئی بڑا تصادم نہیں ہوا۔
13 فروری کو منی پور میں صدر راج نافذ ہوا تھا
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے 13 فروری کو منی پور میں اس وقت صدر راج نافذ کر دیا تھا جب وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ منی پور قانون ساز اسمبلی کی مدت 2027 تک ہے، لیکن اسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک منی پور میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد کا سوال ہے، یہ مئی 2023 سے ہنوز جاری ہے۔ اس تشدد میں اب تک 260 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
सवाल अब भी वही है 👇
नरेंद्र मोदी मणिपुर जाने से क्यों डरते हैं? pic.twitter.com/5tBuqCwght
— Congress (@INCIndia) June 28, 2025
منی پور تشدد معاملے پر اپوزیشن کی حکومت پر تنقید
منی پور تشدد معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں، خصوصاً کانگریس لگاتار مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ یہ سوال کانگریس لیڈران بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آخر پی ایم مودی نے ابھی تک منی پور کا دورہ کیوں نہیں کیا؟ آج بھی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ایک ویڈیو کے ساتھ پارٹی کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کی گئی ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ سوال اب بھی وہی ہے… نریندر مودی منی پور جانے سے کیوں ڈرتے ہیں؟ اس کیپشن کے ساتھ پوسٹ ویڈیو میں کھڑگے کہتے نظر آ رہے ہیں کہ منی پور تو جل رہا ہے، وہاں نریندر مودی کیوں نہیں جا رہے ہیں۔ ملک کے اندر اتنا بڑا بحران ہے، آج ملک میں آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ آپ ملک و بیرون ملک گھوم رہے ہیں، لیکن منی پور کیوں نہیں گئے؟ کیا وہاں جانے سے آپ ڈرتے ہیں؟ کیا وہاں کے شہری، ہندوستان کے شہری نہیں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


