بھاگلپور، انجنی کمار: پرشانت کشور اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے بارے میں پرشانت کشور کے مبینہ بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بی جے پی کی ریاستی جنرل سکریٹری ڈاکٹر پریتی شیکھر نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پرشانت کشور کو اپنی زبان اور حدود کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی اوقات میں رہنا چاہیے۔
غنڈہ گردی کی زبان برداشت نہیں کی جائے گی
ڈاکٹر پریتی شیکھر نے پرشانت کشور کو سخت نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی زندگی میں اس طرح کی بے بنیاد اور قابل اعتراض زبان استعمال کرنا ان کی اصل ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف اس طرح کی زبان کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پرشانت کشور پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرائم اور دھمکیوں کی زبان استعمال کرکے بہار کے عوام کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ریاست کے لوگ ایسی گیدڑ بھبھکیوں سے خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام وقت آنے پر جمہوری طریقے سے اس کا سخت جواب دینا جانتے ہیں۔
جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے احتجاج
بی جے پی کی ریاستی جنرل سکریٹری نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو این ڈی اے قانون ساز جماعت کی میٹنگ میں اتفاق رائے سے منتخب کیا گیا ہے۔ کسی ایک شخص کی مخالفت سے حکومت یا قیادت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت ہمیشہ جمہوری دائرے میں رہ کر کی جانی چاہیے، لیکن تشدد یا قابل اعتراض الفاظ کا سہارا لینا مناسب نہیں ہے۔ اس سخت جوابی حملے کے بعد ریاست کی سیاست میں سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
بہار میں سیاسی گرما گرمی بڑھنے کے آثار
پرشانت کشور کے جارحانہ تیور اور بی جے پی کی جانب سے آنے والے اس سخت جواب نے واضح کر دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بہار کی سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ رہنماؤں کے درمیان جاری تند و تیز بیان بازی اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بلند رہنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




