اتر پردیش کے پریاگ راج میں ایک خاتون پر ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے لوگوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر کروڑوں روپے وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ خاتون مختلف ناموں سے ڈیٹنگ ایپ پر مردوں سے دوستی کرتی تھی، آہستہ آہستہ قربت بڑھاتی اور ملاقات کے دوران ان کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بنا لیتی تھی۔ بعد میں انہی تصاویر اور ویڈیوز کو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر مبینہ طور پر بلیک میل کیا جاتا تھا۔
الزام ہے کہ جو لوگ رقم دینے سے انکار کرتے تھے، انہیں ریپ اور قتل کی کوشش جیسے سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی جاتی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس طریقے سے اب تک 5 افراد کو جیل بھجوایا گیا اور تقریباً 6 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ ملزمہ کی شناخت پلوّی سنگھ راجپوت کے طور پر ہوئی ہے۔ تاہم ان الزامات اور رقم کی وصولی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
ڈیٹنگ ایپ سے شروع ہوتی تھی دوستی
موصولہ معلومات کے مطابق پلوّی سنگھ راجپوت مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے مختلف مردوں سے رابطہ کرتی تھی۔ پہلے عام گفتگو ہوتی اور پھر رفتہ رفتہ تعلقات میں قربت پیدا کی جاتی۔ اس دوران وہ اپنی مجبوریوں کا حوالہ دے کر مبینہ طور پر رقم بھی حاصل کرتی تھی۔بعد میں ملاقات کے دوران تصاویر اور قابل اعتراض ویڈیوز بنائے جانے کا الزام ہے۔ متاثرہ فریق کا دعویٰ ہے کہ انہی تصاویر اور ویڈیوز کو بعد میں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
رقم نہ دینے پر مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی
متاثرین کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ پلوّی مبینہ طور پر بھاری رقم کا مطالبہ کرتی تھی۔ رقم دینے سے انکار کرنے پر سنگین دفعات میں مقدمہ درج کرانے کا دباؤ بنایا جاتا تھا۔ بعض افراد کو بدنامی اور قانونی کارروائی کے خوف سے رقم دینے پر مجبور ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں کچھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر پلوّی کے سامنے نوٹوں کی گڈیاں نظر آ رہی ہیں۔ تصاویر میں ایک اسلحہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم تصاویر میں موجود رقم اور اسلحے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
5 افراد کو جیل بھجوانے کا دعویٰ
اس معاملے سے وابستہ افراد کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خاتون نے اب تک 5 افراد کو جیل بھجوایا ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ ڈیٹنگ ایپ، قابل اعتراض تصاویر اور مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی کو مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
لکھنؤ میں بھی متعدد مقدمات کا دعویٰ
پلوّی سنگھ راجپوت کے خلاف لکھنؤ میں بھی کئی مقدمات درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف 14 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ تاہم ان مقدمات کی مکمل تفصیلات اور موجودہ قانونی حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
مبینہ گروہ میں 5 افراد شامل
یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ خاتون سوشل میڈیا پر مختلف ناموں سے اکاؤنٹس بنا کر لوگوں سے رابطہ کرتی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ گروہ میں مجموعی طور پر 5 افراد شامل تھے، جن میں پلوّی کے علاوہ دو دیگر خواتین بھی شامل ہیں۔ دعویٰ ہے کہ یہ افراد ایک گروہ کی صورت میں کام کرتے اور لوگوں کو مبینہ طور پر اپنے جال میں پھنسا کر رقم وصول کرتے تھے۔فی الحال اس پورے معاملے میں پولیس کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی اہم ہے۔ الزامات ثابت ہونے تک تمام دعوؤں کو مبینہ ہی سمجھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
