Bharat Express DD Free Dish

Pralhad Joshi Takes Charge of Education Ministry: پراہلاد جوشی نے وزارت تعلیم کا چارج سنبھال لیا، پہلے ہی دن اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کی

پراہلاد جوشی مرکزی حکومت کے سینئر وزرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وزارتِ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی جیسی اہم وزارتوں کی قیادت کر چکے ہیں۔

نئی دہلی :مرکزی وزیر پراہلاد جوشی نے اتوار کو مرکزی وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے وزارتِ تعلیم کے سینئر افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس میں وزارت کے مختلف امور اور آئندہ کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہیں ایسے وقت میں وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جب ملک میں تعلیمی نظام، مسابقتی امتحانات کی شفافیت اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مؤثر نفاذ پر وسیع پیمانے پر بحث جاری ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ صدرِ جمہوریہ کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے مشورے پر پراہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ ذمہ داری سنبھالتے ہی انہوں نے وزارت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ مختلف شعبوں کی موجودہ صورتحال، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزارتِ تعلیم کو ملک کے مستقبل سے وابستہ ایک نہایت اہم وزارت تصور کیا جاتا ہے، اس لیے نئے وزیر کے سامنے قومی تعلیمی پالیسی پر تیز رفتار عمل درآمد، اعلیٰ تعلیم، اسکولی تعلیم، مہارت پر مبنی تعلیم اور تحقیق کے فروغ جیسے اہم چیلنجز موجود ہیں۔

پراہلاد جوشی مرکزی حکومت کے سینئر وزرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وزارتِ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی جیسی اہم وزارتوں کی قیادت کر چکے ہیں۔ انہیں ایک تجربہ کار پارلیمانی حکمتِ عملی ساز اور مضبوط تنظیمی صلاحیتوں کے حامل رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کرناٹک کی دھارواڑ لوک سبھا نشست سے وہ مسلسل پانچ مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

طویل پارلیمانی تجربے اور مؤثر انتظامی انداز کی وجہ سے حکومت نے انہیں متعدد اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اس وقت ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ملک کے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنا، مسابقتی امتحانات میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت جاری اصلاحات کو نئی رفتار دینا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولی تعلیم کے معیار میں بہتری، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تحقیق کے فروغ، ڈیجیٹل تعلیم کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور ہنر پر مبنی تعلیم کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔

وزارتِ تعلیم کی کمان سنبھالنے کے بعد پراہلاد جوشی نے ابتدائی جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں وزارت امتحانی اصلاحات، ٹیکنالوجی پر مبنی جانچ کے نظام، جامعات میں تحقیق کے فروغ اور طلبہ سے متعلق زیر التوا معاملات پر تیز رفتار فیصلے کرے گی۔ تعلیمی ماہرین، طلبہ اور والدین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئے وزیرِ تعلیم ان اہم چیلنجز سے کس طرح نمٹتے ہیں اور ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے عمل کو کس رفتار سے آگے بڑھاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read