Bharat Express DD Free Dish

Sagar Hooch Tragedy: مدھیہ پردیش کے ساگر میں زہریلی شراب نے مچایا قہر، بنڈا میں 11 افراد کی موت، 25 اسپتال میں داخل، کئی گاؤں میں ماتم

واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقائی رکن اسمبلی ویریندر سنگھ لمبردار، کلکٹر پرتیبھا پال، پولیس سپرنٹنڈنٹ انوراگ سوجانیا، سی ایم ایچ او ڈاکٹر دویش پٹیریا اور سابق رکن اسمبلی ترور سنگھ لودھی سمیت دیگر افسران اور عوامی نمائندے اسپتال پہنچے۔ انہوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ڈاکٹروں سے زخمیوں کے علاج کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

مدھیہ پردیش کے بنڈا اسمبلی حلقے کے تحت آنے والے متعدد گاؤں میں زہریلی شراب پینے سے تقریباً 11 افراد کی موت کی اطلاع سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ وہیں تقریباً 4 افراد کے شدید بیمار ہونے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 25 افراد کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ متاثرین کو ابتدائی علاج کے بعد سول اسپتال بنڈا سے ساگر ریفر کردیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقائی رکن اسمبلی ویریندر سنگھ لمبردار، کلکٹر پرتیبھا پال، پولیس سپرنٹنڈنٹ انوراگ سوجانیا، سی ایم ایچ او ڈاکٹر دویش پٹیریا اور سابق رکن اسمبلی ترور سنگھ لودھی سمیت دیگر افسران اور عوامی نمائندے اسپتال پہنچے۔ انہوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ڈاکٹروں سے زخمیوں کے علاج کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

شراب کی دکانیں سیل کردی گئیں

اطلاعات کے مطابق اس واقعے سے متاثرہ افراد میں پاٹن، نوراج، ڈلونا، بمورا، ہنوتی، گوگرا خورد سمیت علاقے کے دیگر گاؤں کے دیہی باشندے شامل ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے پورے معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ انتظامیہ معاملے پر نظر رکھتے ہوئے ضروری کارروائی بھی کررہی ہے۔ احتیاطی طور پر بریٹھی، بنڈا، شاہ گڑھ، مگر دھا، وناکیا، دالپت پور اور برائٹھا کی شراب کی دکانیں سیل کردی گئی ہیں۔ سیمپلنگ بھی جاری ہے۔ زہریلی شراب پینے کے بعد ہونے والی ان اموات کے باعث محکمہ آبکاری کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں آگئی ہے۔ آبکاری دفتر میں حال ہی میں ’بامبے وہسکی‘ کے نام سے بازار میں دھڑلے سے فروخت کی جارہی نقلی شراب کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ یہ شکایت شہر کے ایک لائسنس یافتہ شراب ٹھیکیدار نے درج کرائی تھی۔ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس معاملے میں محکمہ آبکاری کی جانب سے توقع کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی۔ اس حادثے سے چار روز قبل محکمہ آبکاری نے ایک میٹنگ بھی کی تھی۔

لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں نے ظاہر کی تھی ناراضگی

اس میٹنگ میں محکمہ کے افسران کے سامنے لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی شراب کا کاروبار اور نقلی شراب کی فروخت کی جارہی ہے، لیکن ذمہ دار افسران نے لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں کی بات کو نظرانداز کردیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ زہریلی شراب پینے سے 11 افراد کی جان چلی گئی۔ اموات کی وجوہات اور واقعے کی اصل صورتحال جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ اور تشویش کا ماحول ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے معاملے پر نظر رکھتے ہوئے ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔

جیتو پٹواری نے ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا

وہیں کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش پر شراب مافیا کا قبضہ ہوگیا ہے۔ میں بہت دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ ساگر میں پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں۔ میں خود وہاں گیا تھا اور متاثرہ لوگوں سے ملا تھا۔ گھر گھر کے والدین اس نشے کے خلاف خون کے آنسو رو رہے ہیں اور حکومت خاموش ہے۔ اس معاملے کی عدالتی جانچ ہونی چاہیے اور مافیا کو 24 گھنٹے کے اندر سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read