اسرائیل اور حماس نے امریکی ثالثی کے بعد امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا اعلان خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، “ہم صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی مضبوط قیادت کی بھی علامت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے لوگوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ ان کے لیے راحت اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرے گا۔”
We welcome the agreement on the first phase of President Trump’s peace plan. This is also a reflection of the strong leadership of PM Netanyahu.
We hope the release of hostages and enhanced humanitarian assistance to the people of Gaza will bring respite to them and pave the way…
— Narendra Modi (@narendramodi) October 9, 2025
حماس اور اسرائیل ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت جاری مذاکرات کے تیسرے دن غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس مرحلے کے تحت حماس 20 یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں میں اسرائیل کے سپرد کرے گا۔ جس کے بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں میں قید 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
حماس نے فلسطینی قیدیوں کی فہرست اسرائیل کے سپرد کی
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گروپ نے فلسطینی قیدیوں کی فہرست اسرائیل کے حوالے کی ہے جنہیں جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیا جائے گا۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگرانی کرنے والے زہر جبرین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فہرست “معاہدے میں طے شدہ معیارات” کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ اب بھی “ناموں پر حتمی معاہدے کا انتظار کر رہا ہے” اور یہ کہ “متعلقہ طریقہ کار اور مفاہمت مکمل ہونے کے بعد ان کا اعلان کیا جائے گا۔”
اسرائیلی فوج نے معاہدے کا خیرمقدم کیا
اسرائیلی فوج نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا کہ وہ “یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کرتی ہے”۔ بیان کے مطابق، چیف آف جنرل سٹاف نے تمام فورسز کو ہدایت کی کہ “مضبوط دفاع تیار کریں اور کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار رہیں۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
