نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی کے مقبول ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کا سال کا آخری ایپی سوڈ آج صبح 11 بجے نشر کیا جا رہا ہے۔ یہ اس پروگرام کا 129واں ایپی سوڈ ہوگا، جسے خاصی اہمیت حاصل ہے۔ امکان ہے کہ وزیراعظم اس ایپی سوڈ میں آنے والے سال 2026 کو لے کر ملک کو درپیش اہم چیلنجز، مواقع اور ترقی کے مختلف پہلوؤں پر اپنی بات رکھیں گے۔من کی بات کے ذریعے وزیراعظم ہر ماہ ملک کے عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں وہ عام شہریوں کی کہانیاں، سماجی مسائل، قومی کامیابیاں اور درپیش مشکلات پر سادہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ سال کے آخری ایپی سوڈ کے باعث اس بار کی نشریات کو خاص سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں مستقبل کی سمت، ترقیاتی روڈ میپ اور قومی ترجیحات پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں من کی بات کے ذریعے صفائی مہم، ڈیجیٹل انڈیا، آتم نربھر بھارت، نوجوانوں کا کردار، خواتین کا بااختیار بنانا اور ماحولیات کے تحفظ جیسے موضوعات پر عوام کو مسلسل ترغیب دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پروگرام محض ایک ریڈیو نشریات نہیں بلکہ عوام اور وزیراعظم کے درمیان اعتماد اور رابطے کا ایک مضبوط ذریعہ بن چکا ہے۔
اس پروگرام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وزیراعظم کسی رسمی تقریر کے بجائے عام فہم اور سادہ زبان میں عوام سے بات کرتے ہیں۔ شہریوں کے خطوط، ان کے خیالات اور متاثر کن کہانیاں ’من کی بات‘ کا اہم حصہ ہوتی ہیں، جس کے باعث دیہات سے لے کر شہروں تک ہر طبقے کے لوگ اس پروگرام کو توجہ سے سنتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ دارالحکومت دہلی کے اولڈ راجندر نگر علاقے میں بھی من کی بات کو لے کر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی عاملہ کے صدر نتن نوین بوتھ سطح کے کارکنان کے ساتھ بیٹھ کر وزیراعظم کا یہ پروگرام سنیں گے، جس سے اس ایپی سوڈ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
من کی بات 22 زبانوں میں نشر ہوتی ہے
من کی بات 22 ہندوستانی زبانوں اور 29 بولیوں کے ساتھ ساتھ 11 غیر ملکی زبانوں میں نشر کی جاتی ہے۔ ان میں فرانسیسی، چینی، انڈونیشی، تبتی، برمی، بلوچی، عربی، پشتو، فارسی، دری اور سواحلی شامل ہیں۔ من کی بات 500 سے زیادہ آل انڈیا ریڈیو کے نشریاتی مراکز سے نشر کی
جاتی ہے۔ ابتدائی ایپیسوڈ کا دورانیہ 14 منٹ تھا۔ جون 2015 میں، یہ بڑھا کر 30 منٹ کر دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


