نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی جلد ہی فرانس اور سلوواکیہ کے اہم سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کی دعوت پر وزیراعظم مودی 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دورہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ 1993 میں سلوواکیہ کے قیام کے بعد کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔وزارت خارجہ کے سیکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے بتایا کہ وزیراعظم مودی 14 جون کو سلوواکیہ کے دارالحکومت براٹیسلاوا پہنچیں گے۔ اگلے روز ان کا تاریخی صدارتی محل میں باضابطہ استقبال کیا جائے گا، جس کے بعد سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ وفود کی سطح پر اور پھر ون ٹو ون ملاقات ہوگی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، دفاع، تجارت اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اقتصادی اور صنعتی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی امید
دورے کے دوران وزیراعظم مودی سلوواکیہ کے سرکردہ کاروباری لیڈروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرانسپورٹ، قابل تجدید توانائی، نئی ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار اور اختراعی شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔وزیراعظم مودی سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی سے بھی صدارتی محل میں ملاقات کریں گے۔ صدر پیلیگرینی ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کریں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت اور سلوواکیہ کے تعلقات میں مسلسل مضبوطی
بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان تعلقات گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر مستحکم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، خلائی تحقیق، جوہری توانائی، ڈیجیٹلائزیشن، سائبر سکیورٹی، مہارت کی ترقی، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں سمیت کئی شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔سیبی جارج کے مطابق گزشتہ برس بھارتی صدر دروپدی مرمو نے بھی سلوواکیہ کا دورہ کیا تھا، جب کہ رواں سال فروری میں سلوواکیہ کے صدر بھارت میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شریک ہوئے تھے۔ ان اعلیٰ سطحی روابط نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سلوواکیہ میں بھارتی برادری کا بڑھتا اثر
سلوواکیہ میں بھارتی برادری کی تعداد حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور اب وہاں تقریباً 11 ہزار بھارتی مقیم ہیں۔ یوکرینی باشندوں کے بعد بھارتی کمیونٹی سلوواکیہ کی دوسری بڑی تارکین وطن برادری بن چکی ہے۔ یوگا، آیوروید، بھارتی کھانوں اور بالی ووڈ فلموں کی مقبولیت نے بھی دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف
بھارتی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلوواکیہ نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔ 2022 میں یوکرین بحران کے دوران ’’آپریشن گنگا‘‘ کے تحت بھارتی شہریوں کے انخلا میں سلوواکیہ نے اہم مدد فراہم کی تھی۔ اس کے علاوہ سلوواکیہ نے پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا تھا۔
فرانس کے دورے سے ہوگا سفر کا آغاز
سلوواکیہ کے دورے سے قبل وزیراعظم مودی فرانس جائیں گے، جہاں وہ صدر ایمانوئل میکرون کی دعوت پر مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری پیوش سریواستو کے مطابق وزیراعظم مودی اپنے فرانسیسی دورے کا آغاز نیس شہر سے کریں گے۔ اس دورے میں دفاع، جوہری توانائی، مصنوعی ذہانت، تجارت اور اسٹریٹجک شراکت داری جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت اور سلوواکیہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا بلکہ یورپ میں بھارت کی سفارتی اور اقتصادی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

