وزیراعظم نریندر مودی کے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے 128ویں ایپی سوڈ کا نشریہ اتوار کو کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے دنیا کی قدیم ترین زبان تمل اور قدیم ترین شہروں میں شمار ہونے والے شہر وارانسی (کاشی) کے تاریخی رشتے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کاشی-تمل سنگمم 4.0 میں ضرور شریک ہوں اور تمل زبان سیکھنے میں دلچسپی پیدا کریں۔
’’کاشی-تمل سنگمم سیکھنے کا نایاب موقع ہے‘‘
وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا: ’’ساتھیو، دنیا کی قدیم ترین زبان اور قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر کا سنگم ہمیشہ شاندار ہوتا ہے۔ میں ’کاشی-تمل سنگمم‘ کی بات کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ: ’’2 دسمبر سے کاشی کے ’نمو گھاٹ‘ پر چوتھا کاشی-تمل سنگمم شروع ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ اس کی تھیم ہے — ’Learn Tamil — Tamil Karkalam‘ یعنی تمل سیکھیں، تمل سمجھیں۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے جو تمل تہذیب و زبان سے دلچسپی رکھتے ہیں۔
’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کا وژن
مودی نے کہا کہ کاشی کے لوگ اس پروگرام کو جذبے کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور ہر سال اسے کامیاب بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’میری آپ سب سے درخواست ہے کہ اس بار بھی کاشی-تمل سنگمم میں ضرور شامل ہوں۔ ایسے اور پلیٹ فارم بھی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جن سے ’ایک بھارت-شریشٹھ بھارت‘ کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کاشی کے رہائشی اس سال بھی بھرپور جوش کے ساتھ تمل ناڈو سے آنے والے مہمانوں کا استقبال کرنے کو تیار ہیں۔
کاشی-تمل سنگمم 4.0 کے لیے پہلا طلبہ قافلہ روانہ
اسی دوران تمل ناڈو کے مختلف شہروں سے طلبہ کا پہلا گروپ ہفتہ کو وارانسی کے لیے روانہ ہوا۔ اس قافلے میں کنیا کماری کے 43 طلبہ، تروچیراپلی (TPJ) کے 86 طلبہ، چنئی ایگمور (MS) کے 87 طلبہ شامل ہیں۔ یہ طلبہ مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں اور وارانسی میں ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں، تعلیمی نشستوں اور تجرباتی سیشنز میں حصہ لیں گے۔ اس پروگرام کا مقصد دونوں خطوں کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

