احمد آباد (گجرات): وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے سرکاری دور بھارت کے دوران بھارت اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تیار کیے گئے جامع روڈمیپ کے تحت جرمن جامعات کو بھارت میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی دعوت دی۔
اعلیٰ تعلیم میں نئی شراکت داری
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ آج تیار کیا گیا اعلیٰ تعلیم کا جامع روڈمیپ تعلیمی شعبے میں دونوں ممالک کی شراکت داری کو ایک نئی سمت دے گا۔ انہوں نے کہا: ’’میں جرمن یونیورسٹیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھارت میں اپنے کیمپس قائم کریں۔ اس موقع پر میں چانسلر مرز کا بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ کے اعلان پر شکریہ ادا کرتا ہوں، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مضبوط کرے گا۔‘‘
عالمی اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال
وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین اور غزہ کی صورتحال سمیت عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور جرمنی اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور دونوں ممالک مل کر اس کے خلاف جدوجہد کے لیے پرعزم ہیں۔
عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت
وزیراعظم مودی نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے جی-4 گروپ کے تحت بھارت اور جرمنی کی مشترکہ کوششوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دستخط کیے جانے والے مفاہمتی یادداشتیں مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی رفتار اور مضبوطی فراہم کریں گی۔
توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور گرین ہائیڈروجن
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور جرمنی موسمیاتی اقدامات، توانائی، شہری ترقی اور اربن موبیلیٹی کے شعبوں میں نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کی شراکت سے شروع ہونے والے گرین ہائیڈروجن کے بڑے منصوبے مستقبل کی توانائی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط سپلائی چین کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔
ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی میں تعاون
وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں بھارت اور جرمنی کے درمیان تعاون ہر سال مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے دفاعی تجارت سے متعلق عمل کو آسان بنانے پر چانسلر مرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ روڈمیپ پر کام کریں گے، جس سے مشترکہ ترقی اور پیداوار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
عوامی روابط اور تاریخی تعلقات
عوامی سطح پر تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکانند اور میڈم بھیکاجی کاما کا حوالہ دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور فکری روابط کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’آج ہم ان تاریخی تعلقات کو ایک جدید شراکت داری میں تبدیل کر رہے ہیں۔‘‘
تعلقات کی اہم سالگرہ
چانسلر مرز کا یہ دورہ بھارت-جرمنی سفارتی تعلقات کےز 75 برس اور اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، جس کا مقصد مختلف اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔جرمن چانسلر 12 سے 13 جنوری تک بھارت کے دورے پر ہیں اور 13 جنوری کو بوش، نینو سائنس اینڈ انجینئرنگ (CeNSE) کے دورے کے بعد جرمنی روانہ ہوں گے۔
بھارت ایکسپسریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
