Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Targets TMC: وزیر اعظم مودی نے درگاپور میں خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی پر سادھا نشانہ، کہا-بنگال میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ تشویش ناک

پی ایم مودی نے بنگال کے ووٹروں کو متنبہ کیا کہ ریاست کی ترقی صرف تبھی ہو سکتی ہے، جب بی جے پی اگلے سال کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو درگاپور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی ترنمول کانگریس پر آر جی کر عصمت دری-قتل کیس میں قصورواروں کو بچانے کا الزام لگایا۔ اس موقع پر انھوں نے 5 ہزار کرورڑ سے زیادہ کے تیل، گیس، بجلی، سڑک اور ریل پروجیکٹس کا آغاز کیا۔

وزیر اعظم نے اس موقع کو ریاست میں بی جے پی کے حریف پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور کہا کہ بنگال میں خواتین کے خلاف پرتشدد جرائم کے واقعات – بشمول کولکاتا کے آر جی کر اسپتال میں ایک جونیئر ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل، دکھ اور غم و غصے کا باعث ہیں۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت تنقید کرتے ہو ئے پی ایم مودی نے بنگال کے ووٹروں کو متنبہ کیا کہ ریاست کی ترقی صرف تبھی ہو سکتی ہے، جب بی جے پی اگلے سال کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے۔

ماں ماٹی اور مانُش کا پرچار کرنے والی پارٹی کی حکومت میں خواتین غیرمحفوظ: پی ایم مودی

پی ایم مودی نے روزگار کی تلاش میں بنگالی لوگوں کے دوسری ریاستوں میں ہجرت کرنے اور ریاست میں سرمایہ کاری کی مجموعی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے خواتین کی حفاظت کے مسئلے کی طرف توجہ دلائی، کیوں کہ خواتین ووٹروں کو ممتابنرجی کی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

ترنمول کانگریس کے نعرے ’ماں ماٹی اور ماُنش‘ (ماں، مٹی اور انسان) کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ماں، ماٹی اور مانُش کا پرچار کرنے والی پارٹی کی طرف سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات غم و و غصے کو جنم دیتے ہیں۔ کدمبنی گانگولی کی سرزمین میں اس طرح کے واقعات کا ہونا نہایت مایوس کن ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’آج اسپتال بھی نوجوان خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہیں… ترنمول نے مجرموں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read