Bharat Express DD Free Dish

PM Modi reviews Varanasi flood situation: پی ایم مودی نے گنگا میں پانی کی سطح خطرے کے نشان کے قریب پہنچنے پر وارانسی میں سیلاب کی صورت حال کا لیا جائزہ، حکام کو دیں ضروری ہدایات

سنٹرل واٹر کمیشن نے نوٹ کیا کہ وارانسی میں گنگا کے لیے وارننگ لیول 70.262 میٹر ہے، خطرے کا نشان 71.262 میٹر اور اونچے سیلاب کی سطح 73.901 میٹر ہے۔

ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں سیلاب کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا قریب سے جائزہ لیا، کیوں کہ دریائے گنگا کے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے پورے خطے میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ جمعہ کو دریا خطرے کے نشان سے اوپر 70.28 میٹر تک پہنچ گیا اور فی الحال تقریباً چار سنٹی میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ اتر پردیش میں گزشتہ تین دنوں سے جاری بارش کے ساتھ، شہر کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا سامنا کرنا شروع ہو گیا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے پی ایم مودی نے ڈویژنل کمشنر اور وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ کے ساتھ بات چیت کی۔ انھوں نے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں، امدادی کارروائیوں اور نقل مکانی یا بے گھر ہونے والے مکینوں کی حالت کے بارے میں تفصیلی اپ ڈیٹس طلب کیں۔

حکام کو دیں ضروری ہدایات

وزیر اعظم نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ضروری مدد بلا تاخیر فراہم کی جائے۔ انھوں نے خاص طور پر ریلیف کیمپوں میں دستیاب سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ عہدیداروں نے اطلاع دی کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اسٹینڈ بائی پر ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

دریں اثنا سنٹرل واٹر کمیشن نے نوٹ کیا کہ وارانسی میں گنگا کے لیے وارننگ لیول 70.262 میٹر ہے، خطرے کا نشان 71.262 میٹر اور اونچے سیلاب کی سطح 73.901 میٹر ہے۔ دریا کے خطرے کے نشان کے قریب پہنچنے کے بعد مقامی حکام ہائی الرٹ پر ہیں اور چوبیس گھنٹے پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پانی کی سطح میں اضافے کی موجودہ شرح جاری رہی تو آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read