Bharat Express DD Free Dish

PM Shaurya Yatra: شوریہ یاترا کے دوران وزیراعظم مودی نے بجایا ڈمرو، سومناتھ سوابھیمان پَرو کے تحت ہزار سالہ حوصلے کی قومی یادگاری تقریب

شوریہ یاترا سومناتھ سوابھیمان پرو کے تحت منعقد ایک علامتی جلوس ہے، جو اُن جرأت مندانہ قربانیوں اور ناقابل تسخیر روح کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی بدولت سومناتھ نے صدیوں کی آزمائشوں کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھی۔

سومناتھ (گجرات): وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو سومناتھ میں ’شوریہ یاترا‘ میں شرکت کی۔ یہ یاترا جنوری 1026 میں سومناتھ مندر پر ہونے والے پہلے درج حملے کے بعد ایک ہزار برس تک قائم رہنے والے عقیدے، استقامت اور حوصلے کی یاد میں منعقد چار روزہ قومی تقریب کا حصہ ہے۔

کھلے پھولوں سے سجے وہیکل میں وزیراعظم

تقریب سے جاری مناظر میں دیکھا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی پھولوں سے سجے ایک کھلے وہیکل میں کھڑے تھے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور نائب وزیراعلیٰ ہرش سنگھوی بھی موجود تھے۔ یاترا کے دوران وزیراعظم نے ڈمرو بجایا اور عوام کے نعروں اور خیرمقدم کا جواب دیا۔

شوریہ یاترا: جرأت اور قربانی کی علامت

شوریہ یاترا سومناتھ سوابھیمان پرو کے تحت منعقد ایک علامتی جلوس ہے، جو اُن جرأت مندانہ قربانیوں اور ناقابل تسخیر روح کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی بدولت سومناتھ نے صدیوں کی آزمائشوں کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھی۔

گجرات پولیس کے 108 گھوڑوں کی شمولیت

یاترا سے قبل گجرات پولیس کے ماؤنٹڈ یونٹ کے 108 گھوڑے جلوس میں شرکت کے لیے پہنچے۔ جلوس میں شامل گھوڑے مقامی نسلوں کٹھیاواڑی اور مارواڑی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں شوریہ یاترا کے لیے آٹھ ماہ تک خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ یاترا میں متعدد سنتوں، مذہبی رہنماؤں اور بچوں نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ گجرات کے ضلع کھیڑا سے تعلق رکھنے والے برہمرشی سنسکرت مہاودیالیہ کے سنجے برہم بھٹ نے بتایا کہ ادارے کے تقریباً 350 طلبہ شوریہ یاترا میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے شنکھ اور ڈمرُو بجاتے ہوئے گھوڑوں کے آگے جلوس کی قیادت کریں گے۔

سومناتھ سوابھیمان پَرو: تاریخ، تباہی اور احیا

سومناتھ سوابھیمان پَرو 8 سے 11 جنوری 2026 تک منعقد ہوا، جو 1026 میں سومناتھ مندر پر محمودِ غزنوی کے پہلے حملے کے ایک ہزار سال مکمل ہونے کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ یہ حملہ اس طویل دور کا آغاز تھا، جس میں مندر کو بار بار منہدم اور دوبارہ تعمیر کیا گیا، مگر اس کے باوجود سومناتھ عوامی شعور سے کبھی مٹ نہ سکا۔ تاریخ میں مندر کی تباہی اور احیا کا یہ سلسلہ اپنی مثال آپ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سومناتھ محض پتھروں کی عمارت نہیں بلکہ عقیدے، شناخت اور تہذیبی وقار کی زندہ علامت ہے۔

سردار پٹیل کا عزم اور مندر کی بازتعمیر

12 نومبر 1947 (دیوالی کے دن)، سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سومناتھ کے کھنڈرات کا دورہ کر کے مندر کی تعمیرِ نو کا عزم ظاہر کیا، جسے انہوں نے بھارت کی ثقافتی خود اعتمادی کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ عوامی تعاون سے ہونے والی تعمیر نو 11 مئی 1951 کو اس وقت مکمل ہوئی، جب اُس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں مندر کی تقدیس کی گئی۔

75 سالہ تاریخی سفر اور تہذیبی خودداری

سال 2026 میں قوم 1951 کی تاریخی تقریب کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے، جو بھارت کی تہذیبی خودداری اور اٹل عزم کی تجدید ہے۔ بھگوان شیو کے 12 آدی جیوتِر لِنگوں میں پہلے مقام پر فائز سومناتھ مندر عرب ساگر کے ساحل پر اپنی 150 فٹ بلند شکھر کے ساتھ آج بھی پائیدار عقیدے اور قومی حوصلے کی علامت بنا ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read