نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو 2026 کا افتتاح کیا۔ ایک سرکاری ریلیز کے مطابق، 27 سے 29 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس سہ روزہ کانکلیو میں ممتاز سائنس دان، محققین، ماہرین تعلیم، پالیسی ساز، صنعت سے وابستہ رہنما، اسٹارٹ اپس اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے۔ اس دوران ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سائنس، ٹیکنالوجی و اختراع کے شعبوں میں ہندوستان کی ترجیحات پر غور و خوض کیا جائے گا۔ کانکلیو میں مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، جدید مواد، مینوفیکچرنگ، صحت، توانائی، آب و ہوا اور سمندری علوم سمیت 12 موضوعاتی شعبوں پر مباحثے ہوں گے۔ ان مباحثوں میں تحقیق کی ترجیحات، قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سائنسی ترقی کو عملی استعمال میں لانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
دیسی سائنسی کامیابیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی نمائش
کانکلیو کے دوران ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق ایک وسیع نمائش بھی منعقد کی جائے گی، جس میں ہندوستان کی مقامی سائنسی کامیابیوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو پیش کیا جائے گا۔ نمائش میں ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے تقریباً 150 اسٹال لگائے جائیں گے، جہاں مختلف شعبوں میں تکنیکی پیش رفت اور اس کے ممکنہ استعمالات کو اجاگر کیا جائے گا۔
جدید تجربات کے ذریعے سائنس سے آگاہی
شرکا کی دلچسپی بڑھانے اور سائنسی پیش رفت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے موضوعاتی ویڈیوز، ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، دستاویزی فلمیں، معلوماتی کیوسک اور آگمینٹڈ و ورچوئل ریئلٹی کے تجربات بھی پیش کیے جائیں گے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد سائنسی ترقی اور اس کے حقیقی زندگی میں استعمال کو نمایاں کرنا ہے۔ کانکلیو میں ’گلوبل کنیکٹ نیٹ ورکنگ ایونٹ‘ کے نام سے ایک نئی پہل بھی شامل ہے۔ اس میں ہندوستان اور بیرون ملک کی تعلیمی و تحقیقی تنظیموں اور صنعت سے وابستہ 300 سے زائد مدعو شرکا حصہ لیں گے۔ اس پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور تجربہ گاہوں میں ہونے والی اختراعات کو بازار تک پہنچانے کے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




