Bharat Express DD Free Dish

PM Modi gave Gita to Putin Kangana Ranaut called it amazing: پی ایم مودی نے پوتن کو دی ترجمہ شدہ گیتا ، کنگنا رناوت نے اسے ’حیرت انگیز ‘قرار دیا؛ راہل گاندھی کو  بھی بنایا تنقید کا نشانہ

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دو روزہ بھارت دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں ترجمہ شدہ شریمَد بھگود گیتا پیش کی۔ اس پر اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے اسے ایک شاندار قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی جی سناتن دھرم اور بھارتی ثقافت کے سچے سفیر ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن دو روزہ بھارت دورے پر ہیں۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں تحفے کے طور پر ترجمہ شدہ گیتا پیش کی۔ وزیراعظم کی جانب سے گیتا پیش کیے جانے پر بالی ووڈ اداکارہ اور منڈی سے لوک سبھا کی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے اپنی رائے ظاہر کی ہے اور اسے ایک شاندار قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سناتن دھرم اور بھارتی تہذیب کے سفیر ہیں۔ جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کنگنا نے کہا کہ گیتا ہمارے ملک کی ثقافتی دھروہر ہے اور ہمارے وزیراعظم سناتن دھرم اور بھارتی ثقافت کے حقیقی سفیر ہیں۔ گیتا میں جو لکھا ہے وہ سچ ہے، وہ سناتن ہے، جو ہمیں اچھے کرم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ گیتا میں جنگ، کرم، اپنے–پرائے جیسے موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے، اگر صدر پوتن اسے پڑھیں گے تو ان کا رشتہ ہماری تہذیب، ہمارے دھرم اور بھارت کے لوگوں سے اور زیادہ گہرا ہو جائے گا۔ کنگنا رناوت نے کہا کہ پوتن پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارا ملک بہت خوش قسمت ہے کہ اسے نریندر مودی جیسے وزیراعظم ملے ہیں اور انہی کے ہاتھوں ملی گیتا انہیں زندگی کو دیکھنے کا ایک نیا نظریہ دے گی۔

بھارت–روس کے رشتوں میں نئی مضبوطی

بتایا جاتا ہے کہ روس اور بھارت کے تعلقات تجارتی ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی اعتبار سے بھی مضبوط ہیں۔ 1947 میں قائم ہونے والی اس بنیاد کو شریمَد بھگود گیتا کے تحفے نے مزید مستحکم کر دیا ہے، کیونکہ یہ صرف ایک گرنتھ نہیں بلکہ ہمارے ملک کی اصل وراثت ہے، جو صدیوں سے نسل در نسل علم کے طور پر منتقل ہوتی آئی ہے۔

کنگنا نے راہل گاندھی  کو بنایا تنقید کا نشانہ

اس سے پہلے کنگنا نے لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی کے اس بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا جس میں انہوں نے غیر ملکی مہمانوں سے ملاقات کی روایت ختم کیے جانے کی بات کہی تھی۔ کنگنا نے کہا تھا کہ حکومت کے اپنے کام کرنے کے طریقے ہوتے ہیں، لیکن جہاں تک راہل گاندھی کا تعلق ہے، ان کے خود کے دیش بھکت ہونے پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اٹل جی بہت بڑے دیش بھکت تھے اور وہ اپوزیشن میں رہ کر بھی ملک کی نمائندگی کرتے تھے۔ اگر راہل گاندھی اپنا موازنہ اٹل بہاری جی سے کر رہے ہیں تو بہتر ہے کہ وہ بی جے پی میں شامل ہو جائیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت آنے سے پہلے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر حملہ کیا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے لیڈر آف اپوزیشن کے غیر ملکی مہمانوں سے ملنے کی روایت ختم کر دی ہے، جبکہ پہلے کی حکومتوں میں سب کو ملنے کا حق حاصل تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read