وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی درجہ بندی میں بھارتی تعلیمی اداروں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے تعلیمی شعبے کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ درجہ بندیاں کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2026 کے تحت جمعرات کو جاری کی گئیں۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’QS ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز ہمارے تعلیمی شعبے کے لیے خوش خبری لے کر آئی ہیں۔ ہماری حکومت تحقیق اور اختراعی نظام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بھارت کے نوجوانوں کو فائدہ پہنچے۔‘‘
پی آئی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارت اس فہرست میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، اس سے آگے صرف امریکہ، برطانیہ اور چین ہیں۔ بھارت کے 54 اعلیٰ تعلیمی ادارے (HEIs) اس درجہ بندی میں شامل ہوئے ہیں، جن میں آئی آئی ٹی دہلی نے سب سے اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے 123ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس فہرست میں کل 12 آئی آئی ٹیز شامل ہیں۔
یہ کارکردگی نئی تعلیمی پالیسی کی بہتری کی عکاس: دھرمیندر پردھان
یہ درجہ بندیاں معروف عالمی ادارے ’’کوائیکریلی سائمنڈز (QS)‘‘ کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں، جو ہر سال دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کا موازنہ مختلف معیار کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’2014 میں صرف 11 ہندوستانی تعلیمی ادارے اس فہرست میں شامل تھے، جب کہ اب ان کی تعداد 54 ہو چکی ہے۔ یہ پانچ گنا اضافہ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں گزشتہ دہائی میں متعارف کرائی گئی تعلیمی اصلاحات کا ثبوت ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 صرف تعلیمی منظرنامہ نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے 48 فیصد تعلیمی اداروں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے۔ QS 2026 کی درجہ بندی 1.6 کروڑ سے زائد تحقیقی مقالوں اور 1,51,000 ماہرین تعلیم و 1 لاکھ آجرین کی آراء پر مبنی ہے۔ اداروں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے اساتذہ کی قابلیت، تحقیقی سرگرمیاں، شراکت داری اور طلبہ کے نتائج سمیت کئی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس سال ایک نیا معیار ’’بین الاقوامی طلبہ کے تنوع‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


