وزیر اعظم نریندر مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی سے ریاست میں المناک ہیلی کاپٹر حادثے کے تناظر میں بات کی۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ دھامی نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے آفس نے بتایا کہ ’’وزیر اعظم نے مرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی اور مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وزیر اعلیٰ دھامی نے وزیر اعظم کو بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی ہے۔ حادثے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘‘
आदरणीय प्रधानमंत्री श्री @narendramodi जी ने अपने विदेश दौरे पर साइप्रस से दूरभाष पर वार्ता कर रुद्रप्रयाग हेलीकॉप्टर दुर्घटना के संबंध में विस्तृत जानकारी ली। इस दौरान प्रधानमंत्री जी ने इस दुःखद घटना में दिवंगत लोगों के प्रति गहरी संवेदना व्यक्त की। आदरणीय प्रधानमंत्री जी को…
— Pushkar Singh Dhami (@pushkardhami) June 15, 2025
حادثے میں ایک شیرخوار بچے سمیت سات افراد کی ہوئی ہے موت
واضح رہے کہ آج دن کے اوائل میں کیدارناتھ سیکٹر میں ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس میں ہیلی کاپٹر میں سوار سات افراد کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’شری کیدارناتھ جی – آرین ہیلی پیڈ، گپت کاشی سیکٹر میں کام کرنے والے آرین ایوی ایشن کے بیل 407 ہیلی کاپٹر میں پانچ بالغ، ایک شیر خوار بچہ اور عملے کا ایک رکن سوار تھے، جو اتوار کو گر کر تباہ ہو گیا۔‘‘
اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر نے گپت کاشی سے صبح 05:10 بجے اڑان بھری اور صبح 5:18 بجے شری کیدارناتھ جی ہیلی پیڈ پر اترا اور پھر 05:19 بجے گپت کاشی کے لیے روانہ ہوا اور بتایا گیا ہے کہ یہ صبح 5:30 سے 05:45 کے درمیان گوری کنڈ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ کنٹرولڈ فلائٹ ان ٹیرین (سی ایف آئی ٹی) ہو سکتی ہے۔ تاہم ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی طرف سے تفصیلی تحقیقات کے ذریعے اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


