نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز اپنے دو ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں برطانیہ روانہ ہو گئے۔ اس دورے کے دوران وہ بعد میں مالدیپ بھی جائیں گے۔ 23 تا 24 جولائی تک ہونے والے اس برطانوی دورے کا مقصد باہمی تعلقات کو فروغ دینا ہے، جس میں ہند-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر دستخط ایک اہم سنگ میل مانا جا رہا ہے۔
برطانوی ہم منصب کے ساتھ وسیع موضوعات پر ہوگی بات چیت
تین سال سے زیر مذاکرات یہ معاہدہ، ہندوستان کی 99 فیصد برآمدات پر ٹیکس ختم کرے گا، جبکہ برطانیہ کی 90 فیصد مصنوعات پر محصولات میں کمی کی جائے گی۔ اس معاہدے سے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو موجودہ 60 ارب امریکی ڈالر سے دوگنا کرنے کی توقع ہے۔ برطانیہ کو وہسکی اور کاروں جیسی مصنوعات بھارت برآمد کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، وزیر اعظم مودی اپنے برطانوی ہم منصب کئیر اسٹارمر کے ساتھ وسیع موضوعات پر بات چیت کریں گے، جن میں تجارت، دفاع، عالمی و علاقائی امور شامل ہوں گے۔
PM @narendramodi embarks on a visit to United Kingdom and Maldives. pic.twitter.com/qU0ORSDkkd
— PMO India (@PMOIndia) July 23, 2025
دو طرفہ تعلقات کا ارتقا
ہند-برطانیہ تعلقات، تاریخی بنیادوں سے نکل کر ایک متوازن، باہمی مفاد پر مبنی شراکت میں بدل چکے ہیں۔ 2021 میں اسے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط میں بھی تیزی آئی ہے۔ وزیر اعظم مودی اور کئیر اسٹارمر کی ملاقاتیں نومبر 2024 میں برازیل میں G20 اجلاس اور جون 2025 میں G7 اجلاس کے دوران ہو چکی ہیں۔
ادارہ جاتی تعاون
دونوں ممالک کے درمیان پانچ وزارتی سطح کے مکینزم قائم ہیں، جن کا دائرہ کار اسٹریٹجی، معیشت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مذاکرات میں خارجہ اور دفاعی مشاورت، 2+2 ڈائیلاگ بھی شامل رہے ہیں۔ 2024 میں دو طرفہ تجارت 55 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔
دفاع، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور خالصتان پر بات چیت
وزیر اعظم مودی برطانوی ہم منصب سے دفاع، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، اختراعات اور کرٹیکل ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر تفصیلی بات کریں گے۔ اس دوران وہ برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم سے بھی ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تبادلوں، مشترکہ تربیت، اور مصنوعی ذہانت و سیمی کنڈکٹر جیسے اہم شعبوں میں تعاون پر بھی بات ہوگی۔
خالصتان نواز شدت پسندوں پر بھارت کا اعتراض
وزیر اعظم مودی برطانیہ میں سرگرم خالصتان نواز شدت پسندوں کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے، جسے بھارت کے لیے سنجیدہ تشویش قرار دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرَم مسری کے مطابق، اس مسئلے پر برطانوی حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ مسلسل اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف بھارت کے لیے، بلکہ ان ممالک کے لیے بھی باعثِ تشویش ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ان کے معاشرتی نظم کو بھی متاثر کرتا ہے۔
مفرور مجرموں کی حوالگی پر تبادلہ خیال
دونوں ممالک کے درمیان بھارتی قانون سے متعلق مفرور افراد کی حوالگی پر بھی بات چیت جاری ہے۔ وکرم مسری کے مطابق، بھارت نے ان کی حوالگی کے لیے قانونی عمل کے تحت برطانیہ کے ساتھ قریبی اشتراک کیا ہے۔
بھارتی برادری کا کردار
برطانیہ میں بھارتی نژاد آبادی کل آبادی کا تقریباً 2.7 فیصد ہے، جو ہند-برطانیہ تعلقات کی زندہ پل کہلاتی ہے۔ یہ برادری برطانوی معیشت و سماج میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ برطانیہ کے بعد، وزیراعظم مودی 25 تا 26 جولائی مالدیپ کا دورہ کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


