وزیراعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھارتی وقت کے مطابق پیر کو اپنے عہدے کا حلف سنبھال لیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے نفاذ سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔
مودی کی مبارکباد اور دوطرفہ تعلقات پر زور
وزیراعظم مودی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’برطانیہ کے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے پر اینڈی برنہم کو دلی مبارکباد۔ بھارت اور برطانیہ مشترکہ جمہوری اقدار سے جڑے ہوئے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں وسیع تعاون رکھتے ہیں۔ اس ماہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے نفاذ سے ہماری دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اینڈی برنہم کے ساتھ مل کر بھارت۔برطانیہ جامع شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ وژن 2035 کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
برنہم کا سیاسی استحکام بحال کرنے کا عزم
دوسری جانب عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے ملک میں سیاسی استحکام بحال کرنے اور نظامِ حکمرانی میں وسیع اصلاحات لانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بار بار وزرائے اعظم کی تبدیلی سے عوام کا سیاست پر اعتماد کمزور ہوا ہے، اس لیے اب سیاسی قیادت کو بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ بکنگھم پیلس سے واپسی کے بعد 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے برنہم نے کہا، ’’میں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں کہ گزشتہ دس برسوں میں حکومت بنانے کے لیے اس عمارت میں آنے والا میں چھٹا شخص ہوں اور 2016 کے بعد ساتواں وزیراعظم ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔‘‘
نئی نسل کی قیادت کو ذمہ داری نبھانی ہوگی
برنہم نے کہا کہ ان کی نسل کے لیڈران کو اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا، ’’برطانیہ کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم دوبارہ سیاسی استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔ لوگ سیاست سے مایوس ہو چکے ہیں۔ میں ان کی آواز سنتا ہوں اور دیانتداری سے تسلیم کرتا ہوں کہ ہم وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اب ہمیں اس سے بہتر کام کرنا ہوگا۔‘‘
چالیس برس کی سب سے بڑی اصلاحات کا اعلان
برنہم نے اپنی حکومت کو ’’برطانیہ کے لیے فیصلہ کن موڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت گزشتہ چالیس برسوں کی سب سے بڑی اصلاحات نافذ کرے گی۔ ان کے مطابق ملک کو ایک نئے سیاسی اور معاشی ماڈل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں کیے گئے بعض فیصلوں کے نتیجے میں سیاسی اختیارات حد سے زیادہ مرکزیت اختیار کر گئے، معیشت کے اہم شعبے نجی تحویل میں چلے گئے اور ملک کے متعدد صنعتی علاقوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات آج بھی بہت سے علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت اختیارات کو مرکز سے مقامی سطح تک منتقل کرے گی تاکہ ملک کے ہر حصے کو فیصلہ سازی میں مؤثر کردار مل سکے۔ ساتھ ہی ضروری عوامی خدمات کو دوبارہ مضبوط عوامی نگرانی میں لا کر انہیں عام شہریوں کے لیے زیادہ قابلِ استطاعت بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت منگل سے متعدد نئی اسکیموں کا اعلان کرے گی، جن کے لیے مالی وسائل اور فنڈنگ کا مکمل خاکہ بھی پیش کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


