نئی دہلی: بھارت کے نامور فوٹوگرافر اور فوٹو جرنلسٹ رگھو رائے کا اتوار کے روز 83 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا، جس پر ملک بھر میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے اور دہلی کے ایک نجی اسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کو فوٹوگرافی اور ثقافتی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے رگھو رائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ رگھو رائے ایک ایسے تخلیقی نابغہ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے اپنے کیمرے کے لینس کے ذریعے بھارت کی زندگی کی بھرپور عکاسی کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی تصاویر میں غیر معمولی حساسیت، گہرائی اور تنوع پایا جاتا تھا، جس نے لوگوں کو بھارتی معاشرے کے مختلف پہلوؤں کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
Shri Raghu Rai Ji will be remembered as a creative stalwart, who captured India’s vibrancy through his lens. His photography had extraordinary sensitivity, depth and diversity. It brought people closer to the different aspects of life in India. His passing is an irreparable loss…
— Narendra Modi (@narendramodi) April 26, 2026
رگھو رائے کی پیدائش 18 دسمبر 1942 کو موجودہ جھانگ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد انجینئرنگ کے شعبے میں قدم رکھا، تاہم جلد ہی فوٹوگرافی کی جانب راغب ہو گئے اور اسی میدان میں اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک بھارت کی سماجی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی زندگی کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ ان کی تصاویر میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ، بھوپال گیس سانحہ اور ایمرجنسی جیسے اہم تاریخی واقعات کی جھلک نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مدر ٹریسا کی زندگی اور عام بھارتی عوام کے روزمرہ لمحات کو بھی نہایت خوبصورتی سے پیش کیا، جس سے ان کی تصاویر کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ رگھو رائے وہ پہلے بھارتی فوٹوگرافر تھے جنہیں معروف فرانسیسی فوٹوگرافر ہنری کرٹئیر بریسن کی جانب سے عالمی ادارے میگنم فوٹو میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ ان کی کتابیں، تصویری نمائشیں اور مجموعے دنیا بھر میں سراہے گئے اور انہیں پدم شری جیسے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
ان کی فوٹوگرافی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ محض واقعات کی عکاسی تک محدود نہیں تھی بلکہ انسانی جذبات اور معاشرتی حقیقتوں کو بھی اجاگر کرتی تھی۔ انہوں نے عام انسان کی خوشی، غم، جدوجہد اور امید کو قریب سے دیکھا اور اپنی تصاویر کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ رگھو رائے کے انتقال کو فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک عہد کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بیٹے نیتن رائے بھی ایک معروف فوٹوگرافر ہیں اور اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ، مداحوں اور فنِ عکاسی سے وابستہ افراد نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

