نئی دہلی: چین کے شمالی صوبے شانسی میں واقع ایک کوئلہ کان میں ہونے والے ہولناک گیس دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حادثے میں تقریباً 90 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ کئی مزدور اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔ اس افسوسناک سانحے پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بھارت کے عوام کی جانب سے وہ چینی صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ بھگوان اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کو صبر دے اور لاپتا افراد کی جلد اور محفوظ واپسی ممکن بنائے۔
Saddened by the loss of lives in a mining accident in Shanxi Province in China. On behalf of the people of India, my condolences to President Xi Jinping and the people of China. May the bereaved families find strength in this tragic hour. Praying for the early and safe recovery…
— Narendra Modi (@narendramodi) May 23, 2026
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کی رات مقامی وقت کے مطابق تقریباً 9 بج کر 43 منٹ پر چانگژی کے کن یوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کوئلہ کان میں پیش آیا۔ دھماکے کے وقت کان کے اندر مجموعی طور پر 247 مزدور کام کر رہے تھے۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں کو روانہ کیا گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی صبح تین بج کر 33 منٹ تک 157 افراد کو کان سے باہر نکال لیا گیا تھا۔ ان میں سے متعدد زخمی تھے جبکہ کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ حکام کے مطابق تقریباً 90 افراد زیر زمین پھنس گئے تھے اور ان میں سے کم از کم 16 مزدور شدید زخمی حالت میں پائے گئے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حادثے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے فوری طور پر اعلیٰ سطحی ہدایات جاری کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے، زخمیوں کے علاج کو یقینی بنانے اور لاپتا مزدوروں کو جلد نکالنے کی ہدایت دی۔ صدر شی، جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں، نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر کے صنعتی اداروں اور مقامی حکام کو اس حادثے سے سبق سیکھنا چاہیے اور کام کی جگہوں پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق چین میں اس وقت بارشوں اور سیلاب کے موسم کا آغاز بھی ہو چکا ہے، جس کے پیش نظر صدر شی جن پنگ نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے اور آفات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین میں کوئلہ کانوں میں حفاظتی معیار پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں اور حالیہ حادثہ ایک بار پھر صنعتی تحفظ کے نظام پر سنگین سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
