Bharat Express DD Free Dish

PM Modi chair key meeting: وزیر اعظم مودی کی صدارت میں ہوئی ماہی گیری کے شعبے کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم میٹنگ، حکومت نے شروع کیے ہیں کئی پروجیکٹ

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ماہی گیری کے شعبے کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ماہی گیری کے شعبے کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ واضح رہے کہ حکومت گہرے سمندر میں ماہی گیری اور سمندری خوراک کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ماہی گیری کے شعبے کو آگے بڑھانے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ وزیر اعظم کی یہ میٹنگ ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کی وزارت کے تحت ماہی پروری کے محکمے کے 28 اپریل کو ممبئی میں ماہی گیری کے 255 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کی نقاب کشائی کے چند دن بعد ہوئی ہے۔

حکومت نے ماہی گیری کے شعبے کے ترقی کے لیے شروع کیے ہیں کئی پروجیکٹ

وزارت نے ’’کوسٹل اسٹیٹس فشریز میٹ: 2025‘‘ کا انعقاد بھی کیا ہے، جہاں مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ نے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (PMMSY) کے تحت سات ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے کلیدی پروجیکٹس کا افتتاح کیا اور ان کی بنیاد رکھی۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں ماہی گیری کا شعبہ دیہی معاش کو سہارا دینے اور ملک کی قومی معیشت میں حصہ ڈالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایک وسیع ساحلی پٹی اور 2.02 ملین مربع کلومیٹر کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کے ساتھ ہندوستان سمندری وسائل سے مالا مال ہے۔ ہندوستان میں سمندری ماہی گیری کے شعبے میں نمایاں صلاحیت موجود ہے، جس کا تخمینہ 5.31 ملین ٹن ہے۔ ساحلی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے، جن میں تقریباً 3,477 ساحلی ماہی گیری کے گاؤں شامل ہیں، ملک کی کل مچھلی کی پیداوار کا 72 فیصد پیدا کرتے ہیں اور ہندوستان کی سمندری غذا کی کل برآمدات میں 76 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read