عَمان: وزیراعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر آج اردن کے دارالحکومت عَمان پہنچ گئے۔ ہوائی اڈے پر اردن کے وزیراعظم ڈاکٹر جعفر حسن نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ریڈ کارپٹ پیش کیا گیا۔ یہ دورہ بھارت اور اُردن کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
#WATCH | Prime Minister Narendra Modi lands in Amman, Jordan. The Prime Minister of Jordan, Jafar Hassan, received him. pic.twitter.com/VHK8BweQY3
— ANI (@ANI) December 15, 2025
وزیراعظم مودی نے ایکس پر ٹوئیٹ کرکے خبر دی کہ وہ بحفاظت عَمان پہنچ گئے ہیں۔ ایکس پر انہوں نے لکھا: ’’عَمان میں لینڈ ہوگیا ہوں۔اردن کی ہاشمی مملکت کے وزیراعظم جناب جعفر حسن نے ہوائی اڈے پر پرتپاک استقبال کیا جس کے لیے میں شکرگزار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ ہماری اقوام کے درمیان دو طرفہ روابط کو فروغ دے گا۔
Landed in Amman.
Thankful to Mr. Jafar Hassan, Prime Minister of the Hashemite Kingdom of Jordan for the warm welcome at the airport. I am sure this visit will boost bilateral linkages between our nations.@JafarHassan pic.twitter.com/Qba5ZLs4Io
— Narendra Modi (@narendramodi) December 15, 2025
شاہ عبداللہ دوم سے اعلیٰ سطحی مذاکرات
وزیراعظم مودی 15 سے 16 دسمبر تک اردن میں قیام کریں گے، جہاں وہ شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ان بات چیت میں بھارت۔اردن تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی سلامتی کے امور زیرغور آنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں انڈیا۔مڈل ایسٹ۔یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) پر بھی خاص توجہ دی جا سکتی ہے، جس کا اعلان جی-20 اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ اس اقتصادی راہداری میں بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور اسرائیل شامل ہیں، جس کا مقصد یورپ تک تجارت کو مزید آسان اور تیز بنانا ہے۔
اقتصادی و تجارتی تعلقات پر توجہ
بھارت اور اردن کے درمیان تجارتی روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ بھارت اپنی زرعی ضروریات کے لیے اردن سے تقریباً 40 فیصد راک فاسفیٹ اور دیگر کھادوں کا خام مال درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 26 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ بھارت اس وقت اردن کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ بھارتی کمپنیاں اردن میں اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جو دونوں ممالک کے مضبوط اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
ماضی کا حوالہ اور آئندہ سفر
یہ وزیرِاعظم مودی کا سات برس بعد اردن کا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2018 میں فلسطین کے دورے کے دوران مختصر قیام کے لیے اردن آئے تھے، جہاں شاہ عبداللہ دوم نے ان کا استقبال کیا تھا۔ اردن کے بعد وزیراعظم مودی 16 دسمبر کو ایتھوپیا روانہ ہوں گے، جبکہ ان کے تین ملکی دورے کا آخری مرحلہ سلطنت عُمان ہوگا۔ یہ مکمل دورہ 15 سے 18 دسمبر تک جاری رہے گا۔
دورے سے تعلقات میں نئی مضبوطی کی امید
ماہرین کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھارت اور اردن کے درمیان اقتصادی، اسٹریٹجک اور ثقافتی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں اردن کی اہم جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر یہ دورہ علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

