Bharat Express DD Free Dish

Middle East Diplomacy

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کرسکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی کو ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات یقینی طور پر موجود ہیں۔‘‘

یہ انکشاف دی نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے بالواسطہ طور پر سینٹرل انٹلی جنس ایجنسی سے رابطہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیں گے یا نہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، صدر محمد بن زاید کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا تیسرا سرکاری دورہ ہوگا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات 1972 میں قائم ہوئے تھے۔ یو اے ای نے اسی سال بھارت میں اپنا سفارت خانہ کھولا، جبکہ بھارت نے 1973 میں ابو ظہبی میں اپنا سفارت خانہ قائم کیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو دعوت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس دورے کے دوران بھارت اور اردن کے درمیان پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ ان میں ثقافتی تعاون، قابل تجدید توانائی، آبی وسائل کا انتظام، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور تاریخی ورثے کے تحفظ جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھارت اور اردن کے درمیان اقتصادی، اسٹریٹجک اور ثقافتی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں اردن کی اہم جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر یہ دورہ علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔