India-Belgium Relations: بھارت-بلجیم تعلقات کی جڑیں گہری، جرات اور قربانی ہماری مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے بلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’بھارت اور بلجیم کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ یہ جڑیں ہماری مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔‘‘
India Matters To World-Syed Akbaruddin: بھارت دنیا کے لیے اہمیت رکھتا ہے، ہمیں اپنے ردعمل میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے: سید اکبر الدین
سید اکبرالدین نے کہا، "آج کا عام بھارتی خارجہ پالیسی سے ایسے نتائج چاہتا ہے جو اس کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالیں۔ وہ بہتر روزگار، آسان سفری مواقع اور بیرون ملک سے رقم بھیجنے کے آسان طریقے چاہتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی بھارت کے عالمی روابط میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
India-Venezuela bilateral partnership: وزیراعظم مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے درمیان بات چیت، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق
بھارت-وینزویلا شراکت داری کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کا عزم، سیاسی بحران کے پس منظر میں اہم سفارتی پیش رفت۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا، جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی ہلچل دیکھنے میں آئی۔
PM Modi Receives UAE President: وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا کیا استقبال
یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب مغربی ایشیا میں حالات کشیدہ ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ، غزہ میں جاری عدم استحکام اور یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای سے جڑا تنازع خطے کی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، ان علاقائی امور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
PM Modi Concludes Three-Nation Visit: وزیراعظم مودی تین ملکوں کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس، سفارتی اعتبار سے دورہ رہا اہمیت کا حامل
عُمان کا یہ دورہ وزیراعظم مودی کے تین ملکی غیر ملکی دورے کا اختتام تھا، جس سے مغربی ایشیا کو بھارت کی خارجہ پالیسی میں دی جانے والی ترجیح واضح ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں وزیراعظم مودی متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، سعودی عرب، اردن اور عمان کا دورہ کر چکے ہیں۔
PM Modi’s visit to Oman will strengthen relations: وزیرِاعظم مودی کے دورۂ عمان سے دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے، صنعتکاروں کو یقین تجارت کو ملے گی نئی رفتار
وزیراعظم نریندر مودی 15 سے 18 دسمبر تک جاری تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں، سلطان ہیثم بن طارق کی دعوت پر 17 سے 18 دسمبر تک دوسری بار عُمان کا دورہ کر رہے ہیں۔ بھارت اور عُمان کے درمیان ایک طویل المدتی اور ہمہ جہتی اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے، جس کی بنیاد مضبوط تجارتی روابط، توانائی تعاون اور گہرے ثقافتی تعلقات پر ہے۔
India-Africa relations have received a boost: وزیراعظم مودی کی قیادت میں بھارت–افریقہ تعلقات نئی بلندی کی جانب گامزن، اعلیٰ سطحی دوروں سے سفارتی روابط میں اضافہ
افریقی ممالک تک وزیرِاعظم مودی کی متحرک رسائی بھارت کی سوچ سمجھ کر تیار کی گئی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد ترقی کے لیے تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور بدلتے عالمی حالات میں گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
India and Jordan aim to increase bilateral trade: بھارت–اردن دوطرفہ تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف، وزیراعظم نریندر مودی کا اقتصادی و تجارتی تعاون کو نئی رفتار دینے پر زور
ملاقات کے دوران تجارت و سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، قابل تجدید توانائی، کھاد و زراعت، آئی ٹی و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، صحت و فارما، تعلیم، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔
India-Jordan ties: بھارت–اُردن تعلقات کو نئی رفتار اور گہرائی ملے گی، وزیراعظم نریندر مودی نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا
یہ ملاقات وزیراعظم مودی کے تین ملکی غیر ملکی دورے کے پہلے مرحلے کے دوران ہوئی۔ عَمان پہنچنے پر اردن کے وزیر اعظم جعفر حسن نے ان کا خیر مقدم کیا۔ یہ دورہ بھارت اور اُردن کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے، جس سے باہمی شراکت داری کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔
PM Modi Jordan Visit: وزیراعظم نریندر مودی پہنچے اُردن، عَمان کے دوروزہ دورے پر شاندار استقبال، دوطرفہ ملاقات میں اہم معاملوں پر ہوگا تبادلۂ خیال
ماہرین کے مطابق وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھارت اور اردن کے درمیان اقتصادی، اسٹریٹجک اور ثقافتی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ مشرق وسطیٰ میں اردن کی اہم جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر یہ دورہ علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔





