تحریر: چاروی اروڑا
امریکی خلائی فوج نے امریکی فضائیہ کی تحقیقی تجربہ گاہ (اے ایف آر ایل ) کے تعاون سے بینگالورو میں قائم دو کمپنیوں تھرڈ آئی ٹیک (امیج سینسر کمپنی ) اور ون ون فور اے آئی (مصنوعی ذہانت سے متعلق حل فراہم کرنے والی کمپنی ) کے ساتھ 2023 میں پہلا عالمی مشترکہ تحقیق اور ترقیاتی معاہدہ (سی آر اے ڈی اے)کیا۔ یہ امریکی خلائی فوج کا کسی غیر امریکی صنعتی شراکت دار کے ساتھ ایسا پہلا معاہدہ تھا جو خلائی ٹیکنالوجی اور زمینی مشاہدے میں اختراع کی پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس شراکت داری کے نتیجے میں خلا ئی سرگرمی کی نگرانی اور تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر تیارکرنے والی کمپنی ون ون فور اے آئی اور ہندوستان کی واحد امیج سینسر کمپنی تھرڈ آئی ٹیک امریکی فضائیہ کی تحقیقی تجربہ گاہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ واضح رہے کہ امریکی فضائیہ کی تحقیقی تجربہ گاہ فضائیہ کے بنیادی سائنسی تحقیق و ترقی کے مرکز کے طور پر کام کرتی ہے۔ مذکورہ معاہدے کے ذریعہ مشترکہ تحقیقی کاوشوں کی حمایت کے لیے تکنیکی مہارت ، لیب اسپیس اور جدید آلات کے اشتراک کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
وِرندا کپور کے ذریعہ قائم کی گئی اور آئی آئی ٹی دہلی اور برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں انکیوبیٹ (کسی چیز کو ترقی دینے یا پروان چڑھانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا، خاص طور پر ابتدائی مراحل میں )کی گئی کمپنی تھرڈ آئی ٹیک جدید سیمی کنڈکٹر حل میں مہارت رکھتی ہے جو خلائی تصویر کشی اور مواصلات کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یہ سی ایم او ایس امیج سینسرسکی تیاری کے لیے وقف ہے،جو کہ ایک سیمی کنڈکٹر آلہہے جس میں تکمیلی میٹل آکسائیڈ سیمی کنڈکٹر(سی ایم او ایس) ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہےجوایک اہم ٹیکنالوجی ہے جو جدید خلائی تصویر کشی اور دفاعی ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سینسر روشنی کو الیکٹرانک سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جو سٹیلائٹس اور دفاعی نظاموں کے لیے اعلیٰ معیار کی تصویر کشی کو فعال کرتے ہیں۔
تھرڈ آئی ٹک جہاں نیم موصل سے متعلق حل میں مہارت رکھتی ہے وہیں ون ون فور اے آئی خلائی سرگرمی کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی دوہرے استعمال والا سافٹ ویئر تیار کرتی ہے۔ دونوں کمپنیاں مل کر سٹیلائٹ مواصلات کو بہتر بنانے، دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے اور اپنے اختراعی حل کے ذریعے خلائی ٹیکنالوجی کو رفتاردینے کا کام کر رہی ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں ہی عالمی شراکت داری ڈائریکٹریٹ کے تحت امریکی خلائی فوج کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔عالمی شراکت داری ڈائریکٹریٹ کے تجارتی ، شہری اور بین ایجنسی شراکت داری کی شاخ کے سربراہ میرک گارب نے امریکی خلائی فوج کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں کہا ’’تھرڈ آئی ٹیک اور ون ون فور اے آئی جیسے باہمی طور پر فائدہ پہنچانے والے معاہدے خوش آئند ہیں ، خاص کر اس وقت جب یہ معاہدے خلائی شعبے کی آگاہی اور زمین کی مشاہداتی سینسر ٹیکنالوجی میں جدید ترین تحقیق کو مہمیز کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ‘‘
تحقیق کے ذریعے اختراع
یہ معاہدہ خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کی کوششوں کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے۔یہ تھرڈ آئی ٹیک امریکی سرکاری تجربہ گاہوں اور خلائی ماہرین سے تحقیقی مدد فراہم کرتا ہے جو اہم خلائی بنیادی ڈھانچے میں اختراع کو فروغ دیتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تھرڈ آئی ٹیک خلا میں اشیاء کا پتہ لگانے اور ان کا سراغ لگانے کے قابل اعلیٰ کارکردگی والے انفرا ریڈ سینسرس تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ یہ سینسر سٹیلائٹ امیجنگ کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتے ہیں اور خلائی ملبے کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ امریکی خلائی فوج کے ساتھ کام کرتے ہوئے تھرڈ آئی ٹیک عالمی خلائی تحفظ میں تعاون کر رہی ہے اور سٹیلائٹس کی کام کرنے سے متعلق سلامتی کو مضبوطی بخش رہی ہے۔
شراکت داری میں شامل ماہرین اس کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ اے ایف آر ایل کے خلائی گاڑی ڈائریکٹریٹ میں اسپیس انفارمیشن موبیلیٹی کے مشن ایریا لیڈ ویلیسلی پریرا نے امریکی خلائی فوج والے مضمون میں اظہارِ رائے کرتے ہوئے کہا ’’عالمی تعاون تحقیق اور ترقی معاہدہ (سی آر اے ڈی اے )خلائی تکنیک میں مشترکہ تعاون کے حصول کی ہماری جستجو میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مختلف اقوام کے بہترین دماغ اور وسائل کو یکجا کرنے کی حیثیت سنگ میل کی ہے جس سے فریقین کو باہمی فائدے ہوتے ہیں ۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’ ہم ون ون فور اے آئی اور تھرڈ آئی ٹیک کے وِرندا کپور اور وِنایک ڈالمیا ، خلائی فوج ہیڈکوارٹر کے میرک گارب اور ٹیکناجوجی منتقلی معاہدوں کی ماہرہ اور خلائی گاڑی ڈائریکٹریٹ کی سربراہ ملیسا اورٹِز پر مشتمل پوری ٹیم کے شکرگزار ہیں جس نے اس کو ممکن بنانے کے لیے کام کیا۔ ‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
