ملک کی پارلیمنٹ کا طویل انتظار کے بعد مانسون اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے، لیکن اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی دہلی کی سیاست میں زبردست ہلچل مچ چکی ہے، جس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس بار اجلاس صرف معمول کی قانون سازی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مرکز کی حکمت عملی اور اپوزیشن کے سخت جوابی حملوں کا اہم امتحان بھی ثابت ہوگا۔حکومت اس اجلاس میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) سے متعلق 131ویں آئینی ترمیمی بل، ایف سی آر اے ترمیمی بل اور وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل سمیت سات اہم اور دور رس اثرات رکھنے والے بل منظور کرانے کی تیاری میں ہے۔ تاہم ان بلوں کی منظوری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت، یعنی 360 ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہے، جس کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
اسپیکر کے فیصلے پر منحصر ہے عددی طاقت کا کھیل
لوک سبھا کے اندر بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے اس اجلاس کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 باغی ارکان کی نئی جماعت این سی پی آئی اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے 6 باغی ارکان کی حیثیت اس وقت نہایت اہم ہو گئی ہے۔ سب کی نظریں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا پر لگی ہیں، جنہیں ان باغی گروپوں کو علیحدہ شناخت دینے سے متعلق فیصلہ سنانا ہے۔اگر اسپیکر کا فیصلہ باغی گروپوں کے حق میں آتا ہے تو قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی عددی طاقت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود 540 رکنی لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت یعنی 360 نشستوں تک پہنچنے کے لیے حکومت کو مزید سیاسی حمایت درکار ہوگی، جس کے باعث اجلاس کا ہر دن نہایت اہم ہوگا۔
کیا اپوزیشن اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی تیاری؟
آئینی ترمیم جیسے حساس معاملے پر کانگریس نے جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن پس پردہ صورت حال یہ ہے کہ خود اپوزیشن اتحاد کے اندر اس بل پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔اگرچہ کانگریس حلقہ بندی بل کی سخت مخالفت کر رہی ہے، لیکن شرد پوار کی این سی پی اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا جیسے بعض اتحادی اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر ریاستوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت ضمانتیں فراہم کی جائیں تو وہ حکومت کی حمایت پر غور کر سکتے ہیں۔
اپوزیشن نے بھی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر لی
دوسری جانب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن نے بھی حکومت کو گھیرنے کے لیے کئی اہم ایشوز تیار کر رکھے ہیں۔ اپوزیشن اس اجلاس میں پرچہ لیک، آئینی اداروں پر مبینہ قبضہ، سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ، مہنگائی اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات پر حکومت کو سخت سوالوں کا سامنا کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ ایودھیا میں رام مندر کے نذرانوں کی چوریوں سے متعلق تنازع بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے کی تیاری ہے۔ توقع ہے کہ حکومت اس معاملے پر یہ مؤقف اختیار کرے گی کہ یہ مکمل طور پر ریاستی حکومت کے دائرۂ اختیار کا موضوع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
