Bharat Express DD Free Dish

Tap water access reaches 80% in Indian villages: اب 80 فیصد سے زیادہ ہندوستانی دیہی گھرانوں کے پاس ہے پینے کے پانی کا کنکشن، حکومت نے راجیہ سبھا میں پیش کیے اعداد و شمار

اگست 2019 سے مرکزی حکومت نے ریاستوں کے اشتراک سے ’’جل جیون مشن: ہر گھر جل‘‘ مہم شروع کی ہے تاکہ ہر دیہی گھر کو پینے کے قابل پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت نے پیر کو بتایا کہ ملک کے 80 فیصد سے زائد دیہی خاندانوں کے گھروں میں نلکے سے پینے کے پانی کی سہولت موجود ہے۔ وزیر مملکت برائے جل شکتی، وی سومنّا نے راجیہ سبھا کو دیے گئے تحریری جواب میں بتایا کہ ’’16 جولائی تک ملک میں 19.36 کروڑ دیہی گھروں میں سے 15.67 کروڑ (80.93 فیصد) گھروں میں نلکے سے پانی کی فراہمی کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔‘‘

اس حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگست 2019 سے مرکزی حکومت نے ریاستوں کے اشتراک سے ’’جل جیون مشن: ہر گھر جل‘‘ مہم شروع کی ہے تاکہ ہر دیہی گھر کو پینے کے قابل پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مشن کے آغاز پر تقریباً 3.23 کروڑ (16.7 فیصد) دیہی گھروں میں نلکے سے پانی کی سہولت موجود تھی۔ اب تک 12.43 کروڑ مزید گھروں کو اس سہولت سے نوازا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ پینے کے پانی اور صفائی کے محکمہ کی جانب سے ایک آزاد تھرڈ پارٹی ایجنسی کے ذریعے ’’فنکشنلٹی اسیسمنٹ 2022‘‘ کی گئی، جس میں یہ معلوم ہوا کہ 86 فیصد گھروں میں نلکے کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 85 فیصد گھروں کو پانی کی مقدار مناسب مل رہی ہے، 80 فیصد گھروں کو شیڈول کے مطابق باقاعدہ پانی مل رہا ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً ریاستی حکومتوں کے ساتھ مہم کی پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے اور اعلیٰ سطحی اجلاس، ورکشاپس اور ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے ریاستوں کو ہدایت دے رہی ہے کہ وہ مشن کو بروقت مکمل کریں۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں کے دورے بھی کیے جا رہے ہیں، تاکہ مہم لگاتار جاری رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read