نئی دہلی : پیر کے روز اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی اور رام مندر کے چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بیان دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مختلف مسائل پر اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اس وقت رکن پارلیمنٹ این کے پریم چندرن ایوان کی صدارت کر رہے تھے۔پیر کے روز لوک سبھا میں کئی اہم بل پیش کیے جانے ہیں۔ ان میں ٹریبونل ریفارمز بل، 2026، مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026، کیرالہ (نام میں تبدیلی) بل، 2026 اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل، 2026 شامل ہیں۔
امیت شاہ کے بیان تک تعطل جاری رہنے کا دعویٰ
اس سے قبل پیر کو کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ تعطل اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے، جب تک مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں بیان نہیں دیتے۔قومی دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹ کا سبب بننے والے معاملے کو حل کرنے کے لیے وزیر داخلہ کا بیان ضروری ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ جب تک مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں بیان نہیں دیتے، تب تک یہ تعطل جاری رہے گا۔‘‘
FCRA ترمیمی بل پر اکھلیش یادو کا مرکز پر حملہ
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے بھی فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھارت سے بیرون ملک جانے والی رقم کے حوالے سے حکومت سے سوال کیا اور ملک سے باہر جانے والے فنڈز کی مقدار کے بارے میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بھارت میں آنے والے غیر ملکی فنڈز پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، جبکہ بیرون ملک جانے والے بھارتی سرمائے پر اسی طرح کی کوئی روک نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ملک سے کتنا پیسہ بیرون ملک جارہا ہے اور اس حوالے سے مکمل معلومات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر حکومت کو پارلیمنٹ میں وضاحت دینی چاہیے، جبکہ احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




