مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے پیر کے روز آن لائن گیمنگ انڈسٹری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس آن لائن میٹنگ میں ای-اسپورٹس اور سوشل گیمز کو فروغ دینے، صارفین کے پیسوں کے تحفظ اور قانون کے مطابق منتقلی جیسے اہم نکات پر گفتگو ہوئی۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب صدر دروپدی مرمو نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ’’آن لائن گیمنگ کے فروغ اور ضابطہ بل 2025‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس قانون کا مقصد ای-اسپورٹس اور آن لائن سوشل گیمز کو فروغ دینا ہے، جب کہ نقصان دہ آن لائن منی گیمز، ان کی تشہیر اور مالی لین دین کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس قانون کے تحت صرف خدمات فراہم کرنے والے، اشتہار دینے والے، پروموٹرز اور مالی معاونین پر قانونی کارروائی ہوگی، جب کہ عام صارفین یا کھلاڑیوں کو سزا نہیں دی جائے گی۔ قانون کے تحت اگر کوئی آن لائن منی گیم—چاہے وہ مہارت پر مبنی ہو، قسمت پر یا دونوں پر— فراہم کرتا یا فروغ دیتا ہے، تو یہ غیر قانونی ہوگا۔ اس کا مقصد مالی نقصان، نشہ اور اس کے باعث خودکشی جیسے شدید نتائج کو روکنا ہے۔
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ اس صنعت کے مثبت پہلوؤں کو فروغ دیا جائے اور بھارت کو گیم سازی کا مرکز بنایا جائے۔ اس کے لیے ہم نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف کری ایٹیو ٹیکنالوجیز (IICT) قائم کیا ہے، جس میں گیمنگ ایک اہم شعبہ ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت ان سرگرمیوں کو فروغ دے گی جو معاشرے کو نقصان نہیں پہنچاتیں، جب کہ نقصان دہ اثرات کو قانونی اقدامات کے ذریعے روکا جائے گا۔ اس ضمن میں وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی (MeitY) کے سیکریٹری ایس کرشنن نے بھی اعلان کیا کہ بھارت میں آن لائن گیمنگ کے لیے جلد ہی نئے قواعد و ضوابط جاری کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے اور جلد نافذالعمل ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

