Bharat Express DD Free Dish

’One Nation,One Election‘:’ایک ملک،ایک انتخاب‘ 2034 نہیں 2029 میں ہوگا نافذ؟ ریاستوں سے ملی منظوری، جانیے کیا ہے منصوبہ

ملک میں’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو2034کے بجائے2029میں ہی نافذ کرنے کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی موسم سرما کے اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔ جانیے مودی حکومت کا ماسٹر پلان کیا ہے۔

نئی دہلی: ملک میں ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو لے کر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ یہ انتخابی نظام 2034 تک ہی نافذ ہو پائے گا، لیکن اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ مرکزی حکومت 2034 تک انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس نئے انتخابی نظام کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی نافذ کر دیا جائے۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (JPC) گزشتہ کافی عرصے سے اس بل کے حوالے سے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، قانونی ماہرین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ 41 رکنی یہ کمیٹی اپنے کام کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے اور توقع ہے کہ آئندہ موسم سرما کے اجلاس میں اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دے گی۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو 2029 کا عام انتخاب ملک کی انتخابی تاریخ کا سب سے منفرد انتخاب ہوسکتا ہے، جس میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں گے۔

حکومت کا ماسٹر پلان کیا ہے؟

اس وقت ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قومی جمہوری اتحاد (NDA) کی حکومت ہے۔ ان میں سے 11 ریاستوں میں اگلے دو برس کے اندر اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ وہیں آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، سکم اور اوڈیشہ سمیت چار ریاستیں ایسی ہیں جہاں انتخابات پہلے ہی لوک سبھا کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کو 2029 میں نافذ کرنا ہے تو اس کا براہ راست مطلب یہ ہوگا کہ جن ریاستوں کی اسمبلیوں کی مدت باقی ہوگی، انہیں جنوری 2029 میں ہی وقت سے پہلے تحلیل کرنا پڑے گا۔ آئین کے آرٹیکل 174(2)(b) کے تحت گورنر کو وزراء کی کونسل کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ چونکہ ان میں سے کئی ریاستوں میں NDA کی حکومتیں ہیں، اس لیے مرکزی حکومت کے لیے یہ فیصلہ نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

وزرائے اعلیٰ کی حمایت ملنا شروع

اس بڑے منصوبے کے حوالے سے بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے پہلے ہی حمایت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ گوا، ہریانہ اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ نے اس تجویز کی کھل کر حمایت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی یکم جولائی کو کمیٹی کے ساتھ ہوئی ملاقات میں مثبت رویہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر قومی مفاد میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کے لیے دہلی اسمبلی کی مدت کم کرنا پڑے تو وہ اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اگر یہ منصوبہ 2029 میں نافذ ہوتا ہے تو کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اپنی حکومتوں کی مدتِ کار کے کچھ سال کم کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب، کرناٹک اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں کے ساتھ مرکزی حکومت کا ٹکراؤ بھی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ بہرحال، حکومت کی تیز ہوتی اس کوشش سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے انتخابی اصلاحات کے منصوبے کو جلد از جلد نافذ کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read