Bharat Express DD Free Dish

جشنِ یومِ سر سید پر محمد ادیب کی علیگ برادری سے جذباتی اپیل، ’’صرف جشن نہیں، سر سید کے مشن کو آگے بڑھائیں‘‘

مقررین نے کہا کہ دنیا بھر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے پاس اجتماعی طور پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ برادری اپنی توانائیوں کو منظم کرکے کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کی تعلیم اور کفالت پر صرف کرے تو سر سید کے مشن کو حقیقی معنوں میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے پریاگ راج میں علیگ برادری کی جانب سے جشنِ یومِ سر سید کا شاندار اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں انڈین مسلمس فارسول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان وپدم شری اورارجن ایوارڈ یافتہ ظفراقبال، معروف صحافی عارفہ خانم شیروانی اوردی فریڈم پریس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرانظرالباری سمیت متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی محمد ادیب نے علیگ برادری سے اپیل کی کہ وہ جشن اورتقریبات تک محدود رہنے کے بجائے سرسید احمد خان کے تعلیمی مشن کوعملی طورپرآگے بڑھائیں اورضرورت مند طلبہ کی مدد کواپنا مقصد بنائیں۔ پروگرام کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پروگرام کے کنوینرسید ابراراحمد چیکونے نظامت کے فرائض انجام دیئے اورپریاگ راج میں علیگ برادری کی تنظیمی سرگرمیوں اورخدمات کی تفصیلات پیش کیں۔ جشن کے سلسلے میں تقریباً ایک ہفتے تک مختلف پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں تقریری مقابلے، حسنِ قرأتِ قرآن کریم اورہاکی ٹورنامنٹ وغیره شامل تھے۔ ان مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات اورکھلاڑیوں کوانعامات و اسناد سے نوازا گیا، جبکہ سینئرعلیگ شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مومینٹوپیش کرکے اعزازبخشا گیا۔
معروف صحافی عارفہ خانم شیروانی نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کے چیلنجزکا ذکرکرتے ہوئے لوگوں کوثابت قدمی اورحوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ بے باکی سے لکھتی یا بولتی ہیں توانہیں بھی خوف محسوس ہوتا ہے، لیکن وہ اس خوف کو پیچھے چھوڑکرسچ بیان کرنے کی کوشش جاری رکھتی ہیں۔ انہوں نے علیگ برادری سے سوال کیا کہ بڑی تعداد میں جمع ہوکر جشن منانا اپنی جگہ، لیکن کیا ہم سر سید احمد خان کے مشن کو سمجھ کر اسے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ عارفہ خانم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں، اس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا بنیادی کردار ہے۔

کامیابی کے لیے محنت، لگن، مسلسل جدوجہد اور وقت کی قدر کرنا ناگزیر: ظفراقبال

ہندوستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اورپدم شری وارجن ایوارڈ یافتہ ظفراقبال نے اپنے خطاب میں کھیل کے میدان سے وابستہ یادگار واقعات بیان کیے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف میچوں میں شکست اور فتح کے بعد شائقین کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تجربات حاضرین کے ساتھ شیئرکیے۔ ظفراقبال نے کہا کہ کھیل ہو یا زندگی، کامیابی کے لیے محنت، لگن، مسلسل جدوجہد اوروقت کی قدرکرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کھیل کے میدان میں وقت کی پابندی اور مستقل محنت انسان کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ مہمانِ خصوصی محمد ادیب کا خطاب تقریب کا اہم حصہ رہا۔ انہوں نے علی گڑھ میں گزارے اپنے ایام کا حوالہ دیتے ہوئے جذباتی اندازمیں سر سید احمد خان کی جدوجہد اوران کے تعلیمی مشن کی اہمیت واضح کی۔
انہوں نے علیگ برادری کومخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا سرسید کا مشن صرف یہ تھا کہ لوگ ایک جگہ جمع ہوں، جشن منائیں، ساتھ کھانا کھائیں اورپھراپنی اپنی دنیا میں واپس چلے جائیں؟ محمد ادیب نے سرسید کی تعلیمی جدوجہد کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں میں جدید تعلیم کے فروغ اور تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے شدید مشکلات برداشت کیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود چندہ جمع کیا، لوگوں کواپنے مقصد سے واقف کرایا اور مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن پرقائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے جس مقصد کے لیے اپنی زندگی وقف کی، اس کا تقاضا ہے کہ آج کی علیگ برادری بھی تعلیم کے فروغ اورنئی نسل کی تعمیرکے لیے عملی اقدامات کرے۔

محمد ادیب نے علیگ برادری سے کی یہ بڑی اپیل

محمد ادیب نے زوردیا کہ علیگ برادری کونئے تعلیمی اداروں کے قیام، ضرورت مند اورذہین طلبہ کی مالی مدد اورتعلیمی مواقع کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھرمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین بڑی تعداد میں موجود ہیں اوران کے پاس اجتماعی طور پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ برادری اپنی توانائیوں کو منظم کرکے کمزورمعاشی پس منظرسے تعلق رکھنے والے باصلاحیت طلبہ کی تعلیم اورکفالت پرصرف کرے توسرسید کے مشن کوحقیقی معنوں میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ تعلیمی معیارپربھی تشویش کا اظہارکیا اورطلبہ یونین کے آئندہ انتخابات کے تناظر میں علیگ برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادرِ علمی کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے کی ترقی، تعلیمی معیار کی بحالی اور اس کے روشن مستقبل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ تقریب میں مسلم مجلس کے صدر یوسف حبیب، معروف وکیل فرمان نقوی، اے ڈی آر ایم پریاگ راج ایم ایم وارث، وزارتِ ایم ایس ایم ای کے سینئرافسرجاوید احمد، اولڈ بوائزایسوسی ایشن پریاگ راج یونٹ کے صدر سہیل احمد، نائب صدر ڈاکٹر اقبال اور ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران موجود تھے۔ شہر پریاگ راج اور اس کے قرب و جوار سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں علیگ خواتین کی نمایاں موجودگی بھی قابلِ ذکر رہی۔ تقریب کا اختتام اے ایم یو کے ترانے اور نیشنل اینتھم کے ساتھ ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read