اتر پردیش کی سیاست میں اپنے بے باک بیانات کے لیے مشہور کابینہ وزیر اور سُبھاسپا (SBSP) کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر ایک بار پھر اپنے روایتی انداز میں نظر آئے۔ بلیا کے فیفنا اسمبلی حلقہ کے کرنئی گاؤں میں ایک نجی پروگرام کے دوران انہوں نے نہ صرف سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا، بلکہ نائب وزیرِ اعلیٰ (ڈپٹی سی ایم) کے عہدے سے متعلق ایک ایسا بیان بھی دے دیا جو اب بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
’اکھلیش راج میں برہمنوں کو کتنا احترام ملا، سب جانتے ہیں‘
جب راج بھر سے پوچھا گیا کہ کیا سماجوادی پارٹی میں برہمنوں کو احترام مل پائے گا، تو انہوں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے سیدھا اکھلیش یادو کے سابقہ دورِ حکومت پر سوال اٹھا دیے۔ راج بھر نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جب اکھلیش جی وزیرِ اعلیٰ تھے، تب انہوں نے کتنی بھرتیوں میں برہمنوں کو جگہ دی؟ لیکھ پال، پولیس اور گرام سیوک کی بھرتیوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ 86 میں سے 56 ایس ڈی ایم ایک ہی خاص برادری (یادو) سے بنائے گئے تھے۔ کیا تب انہیں برہمنوں کے احترام کی یاد نہیں آئی؟‘‘انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اب 2047 تک صرف انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ تب تک اقتدار میں ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
منریگا کا نام بدلنے پر دلیل
کانگریس اور راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے راج بھر نے ان کی پدیاترا کو بے اثر قرار دیا۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کے 38 اضلاع میں پدیاترا نکالنے کے باوجود کانگریس کو صرف 6 سیٹیں ملیں اور آگے بھی یہی حال رہنے والا ہے۔ منریگا کا نام بدلنے کے تنازع پر راج بھر نے گھریلو مثال دیتے ہوئے کہا، ’’جب کپڑے پرانے اور ناکارہ ہو جاتے ہیں تو آدمی نئے کپڑے پہن لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ اب منریگا میں کام کے دن 100 سے بڑھا کر 125 کر دیے گئے ہیں اور ہفتوں تک لٹکنے والی ادائیگی اب سات دن میں ہو رہی ہے۔ اگر اس میں رام کا نام جُڑ گیا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ مہاتما گاندھی تو قوم کے باپ ہیں ہی، انہیں کوئی نظرانداز نہیں کر رہا۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کو آئینی بنانے کا مطالبہ
ایک اہم سوال پر راج بھر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نائب وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کو آئینی درجہ دیا جائے۔ ان کے مطابق عوام کی توقعات بڑھ چکی ہیں، لوگ اب زیادہ باخبر اور تعلیم یافتہ ہیں۔ سیاسی شعور میں اضافے کے سبب اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی ہے، اس لیے اسے آئینی حیثیت ملنی چاہیے۔
گھوسی ضمنی انتخاب اور برہمن اراکین اسمبلی کی میٹنگ
گھوسی ضمنی انتخاب میں سُبھاسپا کی دعویداری پر انہوں نے کہا کہ این ڈی اے اتحاد جو فیصلہ کرے گا، وہی قابلِ قبول ہوگا۔ وہیں حال ہی میں بی جے پی کے برہمن اراکینِ اسمبلی کی میٹنگ اور ضیافت پر مچے سیاسی شور کو انہوں نے ’تل کا تاڑ بنانا‘ قرار دیا۔ راج بھر کے مطابق یہ صرف ایک ذاتی دعوت تھی، جسے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔