
کالم نگار : خالد مصطفیٰ (علیگ)
ہر سال 17 اکتوبر کا دن علی گڑھ کی فضاؤں میں ایک روحانی، تعلیمی اور تہذیبی جشن بن کر اترتا ہے۔ یہ دن صرف ایک شخصیت کی پیدائش کا نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، ایک انقلاب کی تکمیل کا دن ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) کے احاطے میں اس دن روشنیوں کا سمندر ہوتا ہے، ہر چہرہ شاداں، ہر دل ممنون اور ہر زبان پر ایک ہی نام ’’سر سید احمد خاںؒ‘‘۔
دنیا بھر سے قدیم طلبہ، محققین، اساتذہ اور طلبہ کی ایک عظیم محفل لگتی ہے۔ مختلف ممالک میں بھی AMU کے فارغ التحصیل طلبہ ’’یومِ سر سید‘‘ کو شایانِ شان طریقے سے مناتے ہیں۔ یہ اتحاد اور محبت کا عالمی منظر ہندوستانی تہذیب کے سنہرے رنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔
سر سید ڈے: تعلیمی بصیرت اور قومی احیاء کی یاد
ہر سال 17 اکتوبر کو برصغیر کے عظیم رہنما، مصلح اور ماہر تعلیم سر سید احمد خان کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے۔ یہ دن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک عید کی مانند ہے، جہاں ان کی بصیرت اور قومی احیاء کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس دور اندیش رہنما کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرایا۔
علی گڑھ تحریک اور اس کے اثرات
سر سید نے علی گڑھ تحریک کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مسلمانوں میں جدید تعلیم کا فروغ تھا۔ سر سید نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ جدید علوم اور اسلامی اقدار میں کوئی تضاد نہیں۔ ان کا مشہور قول تھا: “ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں سائنس و فلسفہ، اور سر پر ایمان کا تاج”۔ اس قول نے ان کے تعلیمی وژن کو بہترین انداز میں بیان کیا۔
یوم سر سید کا پیغام
یوم سر سید صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک عہد کی تجدید کا دن ہے۔ اس دن ہم سر سید کے مشن کو یاد کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا ہم نے ان کے تعلیمی تصورات کو کتنا اپنایا ہے۔ ہمیں ان کے راستے پر چلتے ہوئے تعلیم اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنا ہے۔ اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قرآن خوانی، سر سید کے مزار پر چادر پوشی اور مختلف علمی و ثقافتی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ تقریبات ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ سر سید کی جدوجہد کا ثمر آج بھی زندہ ہے اور ان کا لگایا ہوا پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے۔
آج کی ضرورت
سر سید کی فکر اور بصیرت آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ان کے زمانے میں تھی۔ ہمیں ان کے اس پیغام کو عام کرنا چاہیے کہ تعلیمی پسماندگی کو دور کرکے ہی قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ یوم سر سید مناتے ہوئے ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم ان کے مشن کو جاری رکھیں گے اور علم کی روشنی کو عام کریں گے تاکہ قوم ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔
1857 کی شکست کے بعد جب برصغیر کا مسلم معاشرہ مایوسی، جہالت اور پسماندگی کے سمندر میں غرق تھا، تب سر سید احمد خاںؒ نے اپنی قوم کے لیے علم کی مشعل اٹھائی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ سیاسی آزادی سے پہلے فکری آزادی اور تعلیمی شعور ضروری ہے۔ 1875 میں انہوں نے محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی، جو آگے چل کر 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریکِ حیات تھی، جس نے قوم کو خودی، خود اعتمادی اور عزتِ نفس کا درس دیا۔
تحریکِ علی گڑھ کے رفیق ، وہ عظیم لوگ جنہوں نے سر سید کا خواب تعبیر بنایا
سر سید کے اس مشن میں بے شمار مخلص رفقا نے ان کا ساتھ دیا، جن کے بغیر علی گڑھ کی بنیاد نامکمل رہتی۔ ان میں نمایاں نام ہیں:
نواب محسن الملک ، جنہوں نے مالی وسائل اور انتظامی ڈھانچے کو منظم کیا۔
نواب وقار الملک ، علی گڑھ تحریک کے ترجمان اور استحکام کا ستون۔
مولوی چراغ علی ، جدید فکر کے نمائندہ عالم جنہوں نے سر سید کی فکری حمایت میں قلم اٹھایا۔
الطاف حسین حالیؔ ، جنہوں نے اپنی شاعری میں سر سید کی تعلیمات کو امر کر دیا۔
بیگم وقار النسا اور شیخ عبد اللہ ، جنہوں نے خواتین کی تعلیم کا پرچم بلند کیا اور ’’گرلز اسکول علی گڑھ‘‘ کی بنیاد رکھی۔
یہ سب وہ چراغ ہیں جنہوں نے سر سید کے خواب کو حقیقت کا رنگ دیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، تعلیم، اتحاد اور تہذیب کا مرکز
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج دنیا کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں ہر مذہب، زبان اور طبقے کے طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو AMU کو ایک ’’منی انڈیا‘‘ بناتی ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ رواداری، بھائی چارہ اور ہندوستانی تہذیب کے رنگ نمایاں ہیں۔ یہ یونیورسٹی صرف علم کا گہوارہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی علامت ہے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون، تاریخ ساز وائس چانسلر
2023 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا، پروفیسر نعیمہ خاتون۔ یہ قدم سر سید کے خواب کی جدید تعبیر ہے، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ خواتین کی تعلیم پر زور دیا تھا۔ پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے دور میں: خواتین طلبہ کے لیے نئی ہاسٹل سہولتیں فراہم کیں، ریسرچ اسکالرشپس میں اضافہ کیا، ڈیجیٹل لرننگ سسٹم کو متعارف کرایا، اور یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں نئی نصابی اصلاحات کیں۔ ان کی قیادت میں AMU ایک نئی تعلیمی بلندی کی طرف بڑھ رہا ہے، اور دنیا بھر میں یونیورسٹی کی شبیہ مزید نکھر رہی ہے۔
جشنِ سر سید 2025 ، علم و عقیدت کا عالمی میلہ
اس سال 17 اکتوبر 2025 کو علی گڑھ میں یوم سر سید پہلے سے زیادہ شان و شوکت سے منایا جائے گا۔ جامعہ کے صحن، سر سید ہال، کینیڈی آڈیٹوریم اور سر سید میموریل میں خصوصی تقاریب ہوں گی۔ پروفیسر نعیمہ خاتون کی زیر قیادت جشن کا مرکزی عنوان ہے: ’’سر سید کا خواب ، ایک متحد، تعلیم یافتہ اور روشن ہندوستان‘‘۔ تقریبات میں: بین الاقوامی کانفرنسیں، ’’ریلی آف نالج‘‘ (علمی جلوس)، مشاعرے اور نعتیہ نشستیں اور علی گڑھ کے سابق طلبہ کی عالمی کانفرنس منعقد ہوگی۔ یہ سب کچھ اس بات کا اعلان ہوگا کہ علی گڑھ کی روح آج بھی زندہ ہے، اور سر سید کا پیغام اب بھی دلوں کو جگا رہا ہے۔
سر سید کا پیغام ، آج بھی زندہ اور رہنما
سر سید نے کہا تھا: ’’تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس سے قوم اپنی تقدیر بدل سکتی ہے۔‘‘ یہ پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے یہ ثابت کیا کہ جب قوم علم کی طرف قدم بڑھاتی ہے، تو زوال کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔
سر سیدؒ کی یہ امانت ہمیشہ زندہ رہے گی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سفر ایک خواب سے شروع ہوا اور آج یہ خواب حقیقت کی عظیم عمارت بن چکا ہے۔ یہ عمارت صرف اینٹوں سے نہیں بلکہ قربانیوں، خوابوں اور عزم سے بنی ہے۔ سر سیدؒ کی یہ امانت ہمیشہ زندہ رہے گی، اور ہر 17 اکتوبر کو یہ دنیا کو یاد دلاتی رہے گی کہ علم، رواداری اور اتحاد ہی انسانیت کا اصل جوہر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


