Bharat Express DD Free Dish

Himanta Biswa Sarma warns against anti-Waqf act protest: آسام میں کسی کو بھی وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا، وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے کہا-جسے مخالفت کرنی ہے وہ سپریم کورٹ جائے

آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا سرما نے منگل کو کہا کہ ان کی حکومت متنازعہ وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ریاست کی سڑکوں پر کسی بھی احتجاج یا مظاہرے کی اجازت نہیں دے گی۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)

آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا سرما نے منگل کو کہا کہ ان کی حکومت متنازعہ وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ریاست کی سڑکوں پر کسی بھی احتجاج یا مظاہرے کی اجازت نہیں دے گی۔ سرما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ اگر کسی کو اس کے حق میں یا اس کے خلاف کچھ کہنا ہے تو وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کر سکتا ہے۔ وہاں ججوں کے ذریعہ اس پر مناسب بحث کی جائے گی۔‘‘

سرما نے مزید کہا ’’اگر کچھ لوگ اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سڑکوں پر اترتے ہیں تو اس کی حمایت کرنے والے بھی سڑکوں پر اتریں گے۔ پھر لڑائی ہو گی۔ لیکن ہم آسام میں کوئی لڑائی یا تنازعہ نہیں چاہتے۔ ہم سب کو اپنے برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہیے اور ریاست کو آگے لے جانا چاہیے۔‘‘

اے اے ایم ایس یو کو مخالفت کرنی ہے تو وہ سپریم کورٹ جا سکتی ہے: سرما

ہیمنتا سرما نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہ انھیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ کون اس کی مخالفت کر رہا ہے اور کون اس کی حمایت، لیکن وہ کسی کو بھی سڑکوں پر اترنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ آل آسام مائنارٹیز اسٹوڈنٹس یونین (اے اے ایم ایس یو) کے لیڈروں کو بات چیت کے لیے مدعو کریں گے، وزیر اعلیٰ نے دہرایا کہ تنظیم سپریم کورٹ جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو متعدد مظاہرین کو پولیس نے وسطی اور مغربی آسام کے مختلف حصوں میں اس وقت حراست میں لے لیا تھا، جب وہ وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے گوہاٹی جا رہے تھے۔ اس مظاہرے کا اعلان اے اے ایم ایس یو نے ہی کیا تھا۔ اس کے بعد اتوار کو وقف ترمیمی قانون کے خلاف ایک ریلی جنوبی آسام کے سلچر ضلع کے کاچھر میں پرتشدد ہو گئی تھی۔ جب پولیس نے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read