Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics: نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ دہلی سے آیا: منوج جھا

منوج جھا نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کو عملی طور پر کمزور کر دیا گیا تھا مگر انہیں اسی نظام کے اندر رکھا گیا۔ اسی طرح کی صورتحال اب بہار میں بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ منوج جھا نے کہا کہ اس پورے معاملے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلے اب مقامی سطح پر نہیں بلکہ دہلی میں طے کیے جا رہے ہیں۔

آر جے ڈی ایم پی منوج جھا۔

نئی دہلی: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے ممکنہ فیصلے پر سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بہار میں نہیں بلکہ دہلی میں کیا جا رہا ہے۔

منوج کمار جھا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار گزشتہ تقریباً 20 برسوں سے بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن اب حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ ان سے وہ باتیں بھی کہلوائی جا رہی ہیں جو ان کی اپنی نہیں لگتیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی انہوں نے اس طرح کی صورتحال کا اشارہ دیا تھا اور اس وقت یہ سب اندازوں کے دائرے میں تھا، لیکن اب واضح طور پر لگتا ہے کہ ایک سیاسی آپریشن کیا گیا ہے جو کسی حد تک مہاراشٹر کی سیاست میں ہونے والی پیش رفت کا فوری ورژن معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کو عملی طور پر کمزور کر دیا گیا تھا مگر انہیں اسی نظام کے اندر رکھا گیا۔ اسی طرح کی صورتحال اب بہار میں بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ منوج جھا نے کہا کہ اس پورے معاملے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلے اب مقامی سطح پر نہیں بلکہ دہلی میں طے کیے جا رہے ہیں۔

آر جے ڈی لیڈر نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کیے گئے حالیہ پوسٹ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ برسوں سے نتیش کمار کی سیاست اور ان کی زبان کو جانتے ہیں، اس لیے یہ کہنا مشکل نہیں کہ یہ تحریر ان کی اپنی زبان نہیں لگتی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کے حمایتی بھی رہے ہیں اور ان کے مخالف بھی، لیکن اس پوسٹ کے الفاظ اور انداز دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی اور کی لکھی ہوئی باتیں ہیں۔

منوج جھا نے مزید کہا کہ یہ سننا بھی عجیب لگتا ہے کہ ملک کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزرائے اعلیٰ میں شامل ایک لیڈر خود کہہ رہا ہے کہ وہ راجیہ سبھا جانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات کی بازگشت آنے والے کئی برسوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی زمین پر مہاراشٹر جیسے سیاسی تجربات کامیاب ہوں گے یا نہیں، اس پر انہیں شدید شبہ ہے۔

اس سے قبل منوج جھا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بھی ایک پوسٹ کے ذریعے یہی بات دہرائی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ شاید ہی کسی کو اس بات پر شک ہو کہ یہ پوسٹ نتیش کمار کی اپنی آواز معلوم نہیں ہوتی۔ الفاظ میں ایک اجنبی سی بازگشت سنائی دیتی ہے، جیسے جملے کہیں اور تیار کیے گئے ہوں اور یہاں صرف ان کا پاٹھ کیا جا رہا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس میں تو صاف صاف دہلی دربار کے قلم کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ لگتا ہے جیسے خیالات ملک کے دارالحکومت کے کسی پرسکون، منظم کمرے میں لکھے گئے ہوں، پھر ایک ’غیر مرئی میسنجر‘ کے ذریعے پٹنہ پہنچا دیا ہو، اور آخر میں مقرر کردہ ’سرپرست‘ نے وقت دیکھ کر انہیں پوسٹ کر دیا ہو۔

منوج جھا نے کہا کہ موجودہ سیاست کے اس نئے گرامر میں اب الفاظ بھی مہاجر ہو چکے ہیں۔ خیالات کہیں پیدا ہوتے ہیں، آواز کہیں اور دی جاتی ہے اور آخرکار اس کا کریڈٹ اس نام کو ملتا ہے جس کی مہر سب سے زیادہ آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی ایسے بیانات پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی شخص کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں لکھی گئی سطروں کی عوامی پاٹھ سن رہے ہوں۔ بہرحال، جے ہند، جے بہار۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read