Bharat Express DD Free Dish

Manoj jha

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ اب بحث صرف اگلے انتخابات یا کسی ایک انتخابی نتیجے تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کس طرح برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بھی اس معاملے کو لے کر اپنی حکمت عملی اور ردعمل طے کریں گے۔

منوج جھا نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کو عملی طور پر کمزور کر دیا گیا تھا مگر انہیں اسی نظام کے اندر رکھا گیا۔ اسی طرح کی صورتحال اب بہار میں بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ منوج جھا نے کہا کہ اس پورے معاملے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلے اب مقامی سطح پر نہیں بلکہ دہلی میں طے کیے جا رہے ہیں۔

تعلیم کے نظام پر بات کرتے ہوئے منوج جھا نے کہا کہ دنیا کے بڑے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں بھارتی ماہرین کا کردار انتہائی اہم رہا ہے اور کئی نمایاں عالمی شخصیات بھارتی پس منظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے تعلیمی اداروں کی اہمیت کو سمجھے اور انہیں مضبوط بنائے تو ہی اعلیٰ معیار کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے اس بیان پر کہ “2013 کے نکسلی حملے میں کانگریس کے لوگ شامل تھے”، منوج جھا نے اسے نہایت سنگین الزام قرار دیتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ الزام ہے۔ آپ حکومت کا حصہ ہیں، اگر یہ سچ ہے تو ثبوت پیش کریں۔

آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کوغیرجانبدارہونا چاہئے، لیکن کسی کے اشارے پرکمیشن نے اپنے طریقہ کارکو پوری طرح سے بدل لیا ہے۔

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق نامزدگی میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع میں ’’فیصلہ کن سفارتی کردار‘‘ ادا کیا اور ’’اعلیٰ قیادت‘‘ کا مظاہرہ کیا۔

آر جے ڈی ایم پی منوج جھا نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ جہاں تک پاکستان کی دہشت گردی کی تجربہ گاہ کا تعلق ہے تو یہ بات پاکستان کو بھی پتہ ہے، ہم دہشت گردی کی تجربہ گاہ اور عام شہریوں میں فرق

آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے مرکزی کابینہ کے ذات پات کی مردم شماری کے فیصلے پر کہا کہ حکومت کی ذات پات کی مردم شماری کو ہاں کہنا بہوجن آبادی کی جیت ہے۔ لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو، شرد یادو، تیجسوی یادو کو یاد کرتے ہوئے اس معاملے کو آگے بڑھایا۔

منوج جھا نے کہا، "ہم نے کسانوں کی تحریک کے دوران کہا تھا کہ آپ کے پاس اکثریت ہے، لیکن کسی چیز کو زبردستی لاگو نہ کریں۔ آپ نے ہی کیا اور بالآخر وہ بل واپس لینا پڑا۔

منوج جھا نے پیر (29 جولائی) کو کہا، "یہ میز پر ہاتھ مارنے کا موضوع نہیں ہے۔ یہاں یا وہاں کوئی موت نہیں ہوئی ہے۔ اسے قتل بھی کہا جا سکتا ہے۔ کووڈ کے دوران، میں نے کہا تھا کہ قتل کو موت نہیں کہنا چاہیے، اعداد و شمار کو اپنی جگہ پر رکھیں۔