Bharat Express DD Free Dish

NCLAT Backs Adani Bid For Jaiprakash Associates: این سی ایل اے ٹی نے جے پرکاش ایسوسی ایٹس کے لیے اڈانی گروپ کی بولی کو برقرار رکھا، ویدانتا کی اپیل مسترد

اپیلیٹ ٹریبونل نے قرض دہندگان کی کمیٹی (Committee of Creditors – CoC) کے فیصلوں کی بھی توثیق کی اور کہا کہ کمیٹی کی فیصلہ سازی کے عمل میں کسی قسم کی قانونی خامی یا بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ ٹریبونل نے خاص طور پر 14 نومبر 2025 کی CoC میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا

نئی دہلی : جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (JAL) کے انسولوینسی ریزولوشن عمل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل (NCLAT) نے اڈانی گروپ کی بولی کو برقرار رکھتے ہوئے ویدانتا لمیٹڈ کی جانب سے دائر اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد قرض میں ڈوبی کمپنی کی تنظیمِ نو کے عمل کی راہ مزید صاف ہو گئی ہے۔جسٹس (ریٹائرڈ) اشوک بھوشن کی سربراہی والی بینچ، جس میں ٹیکنیکل ممبر برون مترا بھی شامل تھے، نے نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) کے پہلے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کو پلٹنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔

اپیلیٹ ٹریبونل نے قرض دہندگان کی کمیٹی (Committee of Creditors – CoC) کے فیصلوں کی بھی توثیق کی اور کہا کہ کمیٹی کی فیصلہ سازی کے عمل میں کسی قسم کی قانونی خامی یا بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ ٹریبونل نے خاص طور پر 14 نومبر 2025 کی CoC میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اضافی تجویز پر غور نہ کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر قانونی دائرے میں تھا۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انسولوینسی ریزولوشن کا پورا عمل بغیر کسی طریقہ کار کی خلاف ورزی کے مکمل کیا گیا اور قرض دہندگان کے تجارتی فیصلوں میں غیر ضروری مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔ ٹریبونل کے مطابق مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے کاروباری فیصلوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ویدانتا لمیٹڈ نے اڈانی گروپ کے 14,535 کروڑ روپے کے ریزولوشن پلان کو چیلنج کیا تھا۔ ویدانتا کا دعویٰ تھا کہ اس کی پیشکش کمپنی کے لیے زیادہ بہتر تھی کیونکہ اس کی نیٹ پریزنٹ ویلیو (NPV) 12,505 کروڑ روپے تھی۔ تاہم NCLAT نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور اڈانی گروپ کے منصوبے کو برقرار رکھا۔اس سے قبل بھی اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کی سماعت کے دوران اڈانی گروپ کے منصوبے پر عمل درآمد روکنے سے انکار کر دیا تھا، البتہ یہ واضح کیا گیا تھا کہ تمام پیش رفت حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ کو جون 2024 میں انسولوینسی کارروائی کے تحت لایا گیا تھا، جب کمپنی 57 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے قرض کی ادائیگی میں ناکام ہو گئی تھی۔ الہ آباد بینچ آف NCLT نے کمپنی کے خلاف دیوالیہ کارروائی کی درخواست قبول کی تھی، جس کے بعد مختلف کمپنیوں نے اس کے ریزولوشن کے لیے بولیاں پیش کیں۔

اب ویدانتا کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اڈانی گروپ کے ریزولوشن پلان پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف جے پرکاش ایسوسی ایٹس کی تنظیم نو کے لیے اہم ہے بلکہ بھارت میں انسولوینسی اور دیوالیہ قانون کے تحت قرض دہندگان کے اختیارات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read