Bharat Express DD Free Dish

Naresh Balyan Case: نریش بالیان کیس میں نیا موڑ! دہلی ہائی کورٹ کی جج نے سماعت سے خود کو کیوں کیا الگ؟

عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی نریش بالیان کی ضمانت عرضی پر دہلی ہائی کورٹ میں بڑا موڑ آ گیا ہے۔ جسٹس سوارن کانتا شرما نے خود کو سماعت سے الگ کر لیا، اب اگلی سماعت 23 اپریل کو ہوگی۔

عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی نریش بالیان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ مکوکا (MCOCA) کے تحت درج معاملے میں باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر آج دہلی ہائی کورٹ میں اہم موڑ آیا۔ جسٹس سوارن کانتا شرما نے اس معاملے کی سماعت سے خود کو الگ (Recuse) کر لیا ہے۔ اب اس درخواست پر اگلی سماعت 23 اپریل 2026 کو ہوگی۔

گزشتہ سماعت میں عدالت نے پولیس کو لگائی تھی پھٹکار

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی پولیس کی کارروائی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے تھے۔ جسٹس شرما نے جانچ میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا، “کیا کسی کے جیل میں رہنے کے دوران آپ دو سال تک خاموش بیٹھے رہیں گے؟ جانچ اور سماعت کب مکمل ہوگی؟” عدالت نے پولیس کو 30 مارچ تک ضمنی چارج شیٹ داخل کرنے کا سخت حکم دیا تھا اور یہ بھی پوچھا تھا کہ اب تک الزامات طے کیوں نہیں کیے گئے۔

بالیان کے وکیل کی دلیل

نریش بالیان کی جانب سے سینئر وکیل وکاس پہاوا نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف کوئی مضبوط مقدمہ نہیں بنتا۔ ان کی اہم دلیلیں درج ذیل تھیں:

کوئی گٹھ جوڑ نہیں: بالیان کا گینگسٹر کپل سانگوان عرف نندو سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کوئی منی ٹریل ملی ہے۔ بیانات کی قانونی حیثیت پر سوال: دو افراد کے اعترافی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی ریکارڈنگ قانونی طریقے سے نہیں کی گئی۔پرانے ضمانتی فیصلے کا حوالہ: وکیل نے کہا کہ جبری وصولی کے مرکزی کیس میں عدالت پہلے ہی بالیان کو ثبوت کی کمی کی بنیاد پر ضمانت دے چکی ہے، لیکن بعد میں پولیس نے مکوکا لگا دیا۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

دہلی پولیس کے مطابق یہ معاملہ 2023 کا ہے، جب نریش بالیان اور برطانیہ میں موجود گینگسٹر کپل سانگوان کے درمیان مبینہ آڈیو گفتگو سامنے آئی تھی۔ کپل سانگوان نجف گڑھ کا رہنے والا ہے اور اس پر نفے سنگھ قتل کیس، سریندر مٹیالا کے قتل اور بلو پہلوان قتل کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بالیان اس مجرمانہ سنڈیکیٹ کا حصہ رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں 23 اپریل کی سماعت پر ٹکی ہیں، جب یہ واضح ہوگا کہ سابق رکن اسمبلی کو اس سخت قانون کے تحت راحت ملے گی یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read