Urdu Conclave 2026

MRM criticizes Maulana Mahmood Madani’s statement: ’وندے ماترم  پر اعتراض کیوں؟‘  مولانا محمود مدنی کے بیان پر مسلم راشٹریہ منچ نے کی سخت تنقید

وندے ماترم گائے جانے سے متعلق مولانا محمود مدنی کے بیان  پر مسلم راشٹریہ منچ نے اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔

جمیعت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے وندے ماترم سے متعلق بیان پر مسلم راشٹریہ منچ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مدنی کو اپنی سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے۔  مسلم راشٹریہ منچ کا کہنا ہے کہ ’’ایسے بیانات مسلمانوں کے کسی فائدے کے نہیں—یہ ہماری شبیہ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔‘‘ منچ کا کہنا کہ ہندوستانی مسلمان اب خوف کی سیاست نہیں چاہتے۔ انہیں تعلیم، روزگار، سلامتی اور برابری کے مواقع چاہئیں۔ مسلم راشٹریہ منچ (MRM) کے قومی ترجمان شاہد سعید نے کہا کہ’’ مولانا مدنی کا بیان مسلمانوں کو قومی دھارے سے دور کرنے والا ہے۔ ہندوستانی مسلمان دنیا کے سب سے محفوظ اور باعزت مسلم طبقات میں شمار ہوتے ہیں۔ ملک کی فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، کھیل، سائنس اور فنون—ہر شعبے میں مسلمان نوجوان نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں بار بار خوف اور علیحدگی کی کہانی پھیلانا صرف نفرت کو بڑھاتا ہے۔‘‘  شاہد سعید نے واضح طور پر کہا کہ ’’وندے ماترم پر سوال اٹھانا ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد اور مادر وطن کے احترام کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔‘‘

ہندوستانی مسلمانوں کو ترقی کے لیے تعلیم، صحت، ہنر مندی اور روزگار کی ضرورت ہے

ایم آر ایم کی قومی کوآرڈینیٹر اور خواتین قیادت کی نمایاں آواز ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ’’ ہندوستانی مسلمانوں کو ترقی کے لیے تعلیم، صحت، ہنر مندی اور روزگار کی ضرورت ہے—ایسے تنازعات کی نہیں جو ہمیں سماج کے باقی حصوں سے تصادم کی طرف لے جائیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جو لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں بڑھاتے ہیں، وہ دونوں قوموں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی روایت امن، محنت اور وطن کے ساتھ کھڑے ہونے کی رہی ہے—اور کوئی بھی شدت پسندانہ بیان اس روایت کو توڑ نہیں سکتا۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (NCMEI) کے قائم مقام چیئر مین ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ اسلام اور حب الوطنی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اسلام انصاف، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے نام پر تنازعہ کھڑا کرنا محض مسلمانوں کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش ہے۔ اصل چیلنج دہشت گردی، شدت پسندی، غربت اور پسماندگی ہے— نہ کہ قومی ترانہ۔ جمعیت حمایت الاسلام کے ممتاز عالم مولانا قاری ابرار جمال قاسمی نے اور بھی سخت سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا مدنی کو واقعی مسلمانوں کی فکر ہے تو وہ دہشت گردی کے خلاف کھل کر بات کریں۔

دین کا راستہ جوڑنے کا ہے، توڑنے کا نہیں

صوفی بزرگ اور سجادہ نشین شاہ سید زیارت علی ملنگ حقانی نے اس پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تہذیب، شناخت اور بنیادی پیغام—سب محبت، رواداری اور انسانیت پر قائم ہیں۔ دین کا راستہ جوڑنے کا ہے، توڑنے کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصل لڑائی غربت، بے روزگاری، جہالت اور سماجی پسماندگی سے ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read