Bharat Express DD Free Dish

Muslim man beaten up in Unnao: اترپردیش کے اناؤ میں ہفتہ کے روز ہولی کا رنگ لگانے سے منع کرنے پر مسلم شخص کو کیا گیا زد و کوب، اسپتال تک پہنچنے سے پہلے دم توڑا

ہفتہ کے روز اتر پردیش کے اناؤ میں ایک مسلمان شخص کو ہجوم نے مبینہ طور پر اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا کیوں کہ اس نے ان لوگوں کر اپنے اوپر ہولی کا رنگ لگانے سے روکا۔

ہفتہ کے روز اتر پردیش کے اناؤ میں ایک مسلمان شخص کو ہجوم نے مبینہ طور پر اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا کیوں کہ اس نے ان لوگوں کر اپنے اوپر ہولی کا رنگ لگانے سے روکا۔ اس واقعہ نے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے دیا ہے اور کئی پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

متاثرہ شخص کی شناخت 48 سالہ محمد شریف کے نام سے ہوئی ہے۔ شریف سعودی عرب میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا اور دو ماہ قبل ہی وطن واپس آیا تھا۔ شریف کے بھتیجے محمد شمیم ​​نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اس کے چچا دودھ لینے جا رہے تھے۔ وہ ایک آٹو رکشہ میں سفر کر رہے ہیں۔ اس رکشے کو ایک مندر کے قریب جمعہ کے دن ہولی کے باضابطہ اختتام کے بعد اگلے دن یعنی ہفتے کو بھی ہولی منا رہے تھے۔‘‘

شمیم نے مزید بتایا کہ ’’میرے چچا کے ساتھ ان لوگوں نے بدتمیزی کی اور ان پر رنگ لگانے کے لیے بضد ہو گئے۔ جب میں وہاں پہچا تو میرے چچا ان سے ایسا نہ کرنے کی گزارش کر رہے تھے۔ تب بات ختم ہو گئی تھی۔ لیکن بعد میں ان میں سے کئی لوگوں نے میرے چچا کو دوبارہ پکڑ لیا اور انھیں مارنے لگے۔‘‘

پولیس نے دل کے دورہ کو بتایا موت کی وجہ

دریں اثنا اناؤ پولیس نے شریف کی موت کے سلسلے میں تین افراد کو حراست میں لیا۔ تاہم پولیس نے بعد میں کہا ’’کوتوالی صدر پولیس نے لاش کو تحویل میں لے لیاگیا اور ڈاکٹروں کے ایک پینل کے ذریعہ ویڈیو گرافی کے ساتھ پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنے کو بتایا گیا ہے۔ جسم پر زخم کے نشانات نہیں ہیں۔ پولیس دیگر تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔‘‘

خبر کے مطابق حملے کے وقت کچھ راہگیروں نے شریف کو بچایا اور پانی پلایا۔ تاہم وہ گر پڑا۔ جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھلیش سنگھ نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ’’پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شکایت درج ہونے کے بعد ہم پہلی معلوماتی رپورٹ درج کریں گے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read