شمشیر گنج، مرشدآباد میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر ’’ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘‘ (APCR) اور ’’بندی مکتی کمیٹی‘‘ کی جانب سے مشترکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن میں تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جو ریاستی مشینری کی مجرمانہ غفلت، پولیس کے جانبدارانہ رویے اور اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کو نشانہ بنانے کی منظم حکمت عملی کی نشان دہی کرتے ہیں۔
یہ تشدد بظاہر وقف قوانین مخالف تحریک سے متعلق ہے، جس میں تین شہری ہلاک، درجنوں زخمی، اور کئی گھروں اور دکانوں کو لوٹا اور نذر آتش کیا گیا، لیکن APCR کی ٹیم نے مسلسل 14 دن تک متاثرہ علاقوں میں تحقیق کی، جب کہ بندی مکتی کمیٹی نے شمشیر گنج تھانے میں درج تقریباً 300 ایف آئی آرز کا تجزیہ کیا، تو معلوم ہوا کہ پولیس نے ابتدائی مراحل میں اگر فوری کارروائی کی ہوتی تو یہ تشدد اتنے بڑے پیمانے پر نہیں پھیلتا۔ جعفرآباد میں ہرگوبند داس اور چندن داس تین گھنٹے تک زخمی حالت میں پڑے رہے، لیکن انھیں وقت پر طبی امداد نہیں دی گئی جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔
چپلیں پہن کر کیوں آئے تھے بی ایس ایف اہلکار؟
رپورٹ میں سب سے سنگین انکشاف بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے متعلق ہے، جس میں اعجاز احمد نامی نوجوان کی موت ہوئی اور کم از کم 13 مسلمان شہری بری طرح زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ BSF اہلکار چپلیں پہنے ہوئے تھے، جو ایک غیر معمولی بات ہے۔ وہیں کچھ لوگوں کو شک ہے کہ سنگھ پریوار سے وابستہ ملیشیا نے BSF کی وردیاں پہن کر حملے کیے۔ کئی زخمی آج بھی مناسب علاج سے محروم ہیں۔
پولیس نے کیا جانبداری کا مظاہرہ
پولیس کی موجودہ کارروائیوں میں بھی واضح جانبداری نظر آتی ہے، جہاں بغیر کسی قانونی عمل کے مسلمانوں، حتیٰ کہ نابالغوں کو بھی رات کے وقت گھروں میں گھس کر گرفتار کیا جا رہا ہے اور انھیں مقررہ 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ دورانِ حراست ان کے ساتھ شدید جسمانی زیادتی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ بندی مکتی کمیٹی کی جانب سے جن ایف آئی آرز کا جائزہ لیا گیا، ان میں بیشتر میں الزامات کو ’’کاپی پیسٹ‘‘ کیا گیا ہے—محض نام تبدیل کیے گئے ہیں—جو کہ ایف آئی آرز کی جھوٹ پر مبنی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان جھوٹی ایف آئی آرز کی بنیاد پر گرفتاریاں جاری ہیں۔
دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی ہو رہی ہے کوشش
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آرز میں دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینے کی سازش بھی واضح طور پر محسوس کی گئی ہے، جو سنگھ پریوار کی جانب سے ملک گیر ’’بانٹو اور راج کرو‘‘ پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر APCR اور بندی مکتی کمیٹی نے حکومت سے متعدد اہم مطالبات کیے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرائی جائے تاکہ سچائی عوام کے سامنے آ سکے اور انصاف ممکن ہو۔ انھوں نے BSF کی فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد کے لیے مالی معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کچھ راحت مل سکے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جھوٹ پر مبنی ایف آئی آرز کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ان کی بنیاد پر گرفتار کیے گئے تمام افراد کو فوراً رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ، پولیس کے غیر قانونی چھاپوں اور رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر کی جانے والی گرفتاریوں پر بھی فی الفور روک لگائی جائے۔ رپورٹ میں اس بات پر شدید اعتراض کیا گیا ہے کہ مرشدآباد ضلع میں انسانی حقوق کے کارکنان اور جمہوری اجتماعات پر غیر سرکاری پابندی عائد کی گئی ہے، جسے فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے تاکہ لوگ آزادانہ طور پر اپنی آواز بلند کر سکیں۔
زیر حراست نابالغوں کو فوراً رہا کرنے کا کیا مطالبہ
ایک اور اہم مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ تمام زیر حراست نابالغوں کو فوراً رہا کیا جائے، کیوں کہ ان کی گرفتاری قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔ آخر میں رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان تمام زیر سماعت قیدیوں کے لیے جو قانونی معاونت حاصل نہیں کر سکتے، حکومت کو لازماً قانونی نمائندگی فراہم کرنی چاہیے تاکہ انصاف تک رسائی سب کے لیے یکساں ہو۔ اے پی سی نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت پر لازم ہے کہ وہ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


