Bharat Express DD Free Dish

APCR Report

اے پی سی آرنے واضح کیا کہ گرچہ قومی سلامتی اورسرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اورشہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کوواقعی مؤثرسماعت کا موقع ملا؟

 ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) مغربی بنگال چیپٹر نے اکبر منڈل کی موت کے معاملے پر اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کا عنوان ’’الزامات، شواہد اور فرقہ وارانہ تناظر: اکبر منڈل کی موت کی تحقیقات‘‘ رکھا گیا ہے۔

اے پی سی آر کی مدھیہ پردیش یونٹ نے بھوپال میں کامیابی کے ساتھ ریاستی کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں وکلا، اساتذہ، سماجی کارکنان، علماء، طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ریاست کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے محروم طبقات کے افراد نے شرکت کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری بیانیہ، جس میں واقعے کو “دو برادریوں کے درمیان جھڑپ” قرار دیا گیا، زمینی حقائق اور دستیاب شواہد سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ اے پی سی آر کے مطابق ریاستی کارروائی میں “منتخب قانون نافذ کرنے” اور “امتیازی استغاثہ” کے واضح آثار دیکھے گئے۔

الیکشن کمیشن کا یہ ایس آئی آر عمل ووٹر لسٹ کی درستگی اور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم مرحلہ ہے۔  عام شہریوں، خصوصاً پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو درپیش مشکلات کے پیشِ نظر،

اے پی سی آر اور جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسے قانون نافذ کرنے والا عمل قطعی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ قانون کی بالا دستی کی تباہی ہے۔ پوپی پولیس محافظ کے بجائے مظلوموں کی دشمن بن چکی ہے۔

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ ترافراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اوریہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلوکام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہرکی معیشت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔

پی اے سی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ بائیو میٹرک تصدیق کی ناکامی ایک سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ حکومت کی زیادہ تر سماجی بہبود اسکیمیں آدھار سے منسلک ہیں۔ یہ ناکامیاں مستحقین کو بنیادی خدمات اور فوائد سے محروم کر رہی ہیں۔

APCR کی ٹیم نے مسلسل 14 دن تک متاثرہ علاقوں میں تحقیق کی، جب کہ بندی مکتی کمیٹی نے شمشیر گنج تھانے میں درج تقریباً 300 ایف آئی آرز کا تجزیہ کیا۔