بابا صدیقی قتل سانحہ میں ممبئی پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔
ممبئی پولیس نے مہاراشٹرکے سابق وزیربابا صدیقی کے قتل کیس میں کافی تاخیرکے بعد بڑی کارروائی کی ہے۔ ممبئی پولیس نے بابا صدیقی کے باڈی گارڈ کانسٹیبل شیام سوناونے کوڈیوٹی میں غفلت برتنے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ قابل ذکرہے کہ بابا صدیقی کو12 اکتوبر2024 کی رات تین حملہ آوروں نے باندرہ میں ان کے ایم ایل اے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفترکے باہرگولی مارکرہلاک کردیا تھا۔
کیوں کی گئی کارروائی؟
جانکاری کے مطابق، کانسٹبل شیام سوناونے ممبئی پولیس کے پروٹیکشن اینڈ سیکورٹی برانچ میں تعینات تھے اوربابا صدیقی کی سیکورٹی ڈیوٹی میں تعینات کئے گئے تھے۔ حادثہ کے بعد انہیں معطل کرکے محکمہ جاتی جانچ شروع کی گئی تھی۔ جانچ میں شیام سوناونے کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کا قصوروار پایا گیا، اس کے بعد انہیں وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ انہیں سروس سے کیوں نہ ہٹایا جائے۔ پولیس محکمہ نے بعد میں انہیں برطرفی خط جاری کیا، جسے انہیں 2 مئی کو قبول کرلیا۔ ڈیوٹی میں لاپرواہی کے سبب انہیں باضابطہ طورپر سروس سے ہٹا دیا گیا ہے۔
27 ملزمین کے خلاف الزامات طے
کچھ ہی وقت پہلے ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے بابا صدیقی کے قتل کے معاملے میں 27 ملزمین کے خلاف مکوکا اوربی این ایس کے تحت الزامات طے کئے ہیں۔ ملزمین کے خلاف بی این ایس قتل، مکوکا، آرمس ایکٹ اورمہاراشٹرپولیس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ آپ کوبتا دیں کہ بی این ایس کے مطابق، الزامات طے کرنا مجرمانہ مقدمے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس کے تحت عدالت شواہد کی بنیاد پرالزامات کوباقاعدہ بناتی ہے۔
لارنس بشنوئی گینگ کا آیا تھا نام
بابا صدیقی کے قتل کے معاملے میں لارنس بشنوئی گینگ کا نام سامنے آیا تھا۔ پولیس چارج شیٹ میں لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی کوبطورملزم نامزد کیا گیا ہے۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ انمول بشنوئی نے مبینہ طورپرکرائم سنڈیکیٹ پرخوف اورتسلط قائم کرنے کی نیت سے بابا صدیقی کے قتل کی سازش کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

