Bharat Express DD Free Dish

Illegal Payments Case: لوک سبھا انتخابات سے قبل کیرالہ میں ای ڈی سرگرم ، وزیر اعلی وجین کی بیٹی وینا کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین کی بیٹی ٹی وینا کی ملکیت والی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد ریاست کی سیاست اب گرم ہو گئی ہے۔

آئندہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کیرالہ میں بڑی کارروائی کی ہے۔ ای ڈی نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کی بیٹی وینا اور ان کی ملکیت والی آئی ٹی کمپنی  کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک افسر نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے یہ معلومات دی ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین کی بیٹی ٹی وینا کی ملکیت والی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد ریاست کی سیاست اب گرم ہو گئی ہے۔ وہیں ای ڈی کی کارروائی کے بعد بی جے پی بدعنوانی کو لے کر پنارائی حکومت کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔

منرل فرم کے ساتھ غیر قانونی لین دین کا الزام

سی ایم وجین کی بیٹی وینا کے خلاف معدنیات کی ایک فرم کے ساتھ غیر قانونی لین دین کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں ایس ایف آئی او کی طرف سے شکایت درج کرائی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی جانچ میں یہ پورا معاملہ منظر عام پر آیا ہے ۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ کوچین منرلز روٹائل لمیٹڈ نے وینا کی کمپنی Exalogics Solutions کو 2018-19 کے درمیان 1.72 کروڑ روپے ادا کیے تھے، جب کہ یہ آئی ٹی فرم اس وقت کوئی سروس فراہم نہیں کر رہی تھی۔

 سی پی آئی (ایم) پہلے ہی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی پر سوال اٹھا رہی ہے۔ سی پی آئی (ایم) پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل وینا کی کمپنی کے خلاف مرکزی تحقیقات کا یہ قدم سیاسی طور پر محرک ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read